مصنوعی پن سے لے کر انسانی بے ساختہ پن

مصنوعی پن سے لے کر انسانی بے ساختہ پن

    by -
    0 1
    Nelum valley

    بس روانہ ہوئی تو برابر والی سیٹ پر بیٹھی ایک موٹی تازی خاتون اور اس کی ویسی ہی “صحت مند” چھوٹی بچی پر نظر پڑ گئی۔ بچی کانوں پر ہیڈ فونز لگائی بیٹھی تھی۔ خاتون کسی عزیز کی موت پر جا رہی تھی اسے بار بار فون آتا یا وہ خود کسی کو کر لیتی اور کمالِ اداکاری کرتے ہوئے بیزار سا منہ بنا کر آہوں اور سسکیوں کے ساتھ روایتی جملے بولتی۔۔۔ “ہائے میرا کلیجہ پھٹ چلا۔۔۔ ہائے میرا ویر میرا ماں جایا۔۔۔۔ بس پہنچ چلی میں۔۔۔۔۔ سوچا بھی نہ تھا کہ یہ دن دیکھنا پڑے گا” وغیرہ وغیرہ۔ آنکھ میں مجال ہے نمی بھی آئی ہو۔۔ فون بند ہوتے ہی وہ بالکل فلیٹ منہ بنا کر چپس یا نمکو کھانے لگتی۔۔۔ پاس بیٹھی اس کی بچی اپنا بیس تیس کلو کا سر جو سرکنڈے نُما بالوں میں گھِرا ہوا تھا ہیڈ فونز لگائی موسیقی کی دھن پر ہلائی جاتی۔۔۔ ماموں کا سوگ منانے کا یہ نیا طریقہ تھا شاید۔

    میرے سامنے والی سیٹ پر ایک خاتون اور ان کا چھوٹا بیٹا بیٹھے تھے اور ان کے برابر میں ایک خاتون اور اس کی چھوٹی بیٹی بیٹھی تھی۔۔۔ اس بچی نے برابر والے بچے سے ادھر اُدھر کی بچگانہ باتیں کر کے پوچھا تمہارے سکول کی کتنی فیس ہے ؟۔۔ بچہ بولا “نو سو اور کچھ روپے ، تم ہزار ہی سمجھ لو”۔۔۔ بچی بولی “اچھا میرے سکول کی تو پانچ ہزار فیس ہے”۔۔۔۔ بچی کی والدہ بولیں “پانچ ہزار نہیں بیٹا پانچ ہزار پانچ سو”۔۔۔۔ اِدھر بیٹھی چھوٹے لڑکے کی والدہ نے جواب دیا “ہم غریب سکول میں پڑھتے ہیں اس لیئے فیس کم ہے”۔۔۔۔۔ اول الذکر خاتون احساسِ برتری کا شکار تھی اور آخرِ الذکر خاتون احساسِ کمتری کا۔۔ وہ بچوں کے ذریعے اپنی اپنی ڈپریشن کا اظہار کر رہی تھیں۔۔۔ ارد گرد کے اس ماحول اور باتوں کو سنتے ہوئے میں نے سوچا اس سے پہلے کہ ان “حساس” عورتوں کی گفتگو شدت اختیار کرتی جائے اور میرے دماغ پر ہتھوڑے برسنا شروع ہو جائیں مجھے اپنی سیٹ بدل لینی ۔چاھیے

    بس آدھی خالی تھی۔۔۔ سب سے آخر والی سیٹیں بالکل خالی پڑی تھیں۔۔۔ میں اُٹھا اور وہاں جا کر بیٹھ گیا۔۔۔ میرے آگے کی سیٹ پر ایک نوجوان اپنے موبائل ٹیبلٹ پر گانے لگا کر ہیڈ فونز لگائے بیٹھا تھا۔ وضع قطع بالکل دیسی تھی پر سر ولائیتیوں جیسا ہلاتا جاتا تھا۔۔۔ میں نے کھڑکی کے شیشے پر پڑا پردا ہٹایا اور باہر دیکھنے لگ گیا۔۔۔

    سردیوں کی ہلکی سنہری دھوپ کھیتوں پر پھیلی تھی۔ سارا دن دھند زدہ رہا لیکن اب سورج نے دھند کا پردہ چاک کر دیا تھا۔ یہ ایسی پیاری دھوپ تھی جیسے خدا نے سورج کے آگے بہت بڑا سافٹ باکس لگا کر روشنی کو ہلکا کر دیا ہو۔ میرا دل چاہنے لگا کہ ایسی کھِلی اور ہلکی دھوپ میں کیمرا لے کر اِدھر کھیتوں میں پھرتا۔۔۔کھیتوں میں جگہ جگہ بھوسے کے ڈھیر لگے تھے جن پر کہیں کہیں بچے لَوٹ رہے تھے۔ سرسوں کے پھول جھومتے تھے۔ ایک ڈیرا گزرا جہاں بوسیدہ سی چارپائی پر تین بزرگ لائین میں بیٹھے باتوں میں مشغول تھے اور سامنے ایک حقہ رکھا تھا۔ پھر ایک گھر جس کی لپائی زدہ دیوار پر مور بیٹھا تھا۔ گزرتے گزرتے خانہ بدوشوں کی ایک جھُگی بستی دیکھی جو ہلکی دھوپ میں بھَلی لگ رہی تھی وہاں بچوں اور عورتوں کا غیر معمولی رش تھا۔ جھگیوں کے پَٹ اُٹھے ہوئے تھے۔ پھر ایک بابا بھیڑ بکریوں کا ریوڑ لے کر کھیتوں سے گزرتے دیکھا دائیں ہاتھ میں اس نے لمبی سی ڈانگ تھامی ہوئی تھی۔ ایک بھینسوں والا ڈیرا آیا جدھر بچے بھینسوں کے بیچ کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اینٹوں کا بھٹہ گزرا جو دھوپ میں لال سرخ لگ رہا تھا ، مزدور کام میں جُٹے تھے اور منشی رجسٹر ہاتھ میں پکڑے کھڑا ہوا کھاتے کھنگال رہا تھا۔ ایک تالاب گزرا جس کے کنارے چار مرد مجھلی پکڑنے کی غرض سے کنڈی ڈالے بیٹھے تھے ، جوہڑ کے ارد گرد کناروں پر لمبے تنوں والے بوٹوں کے اوپر پیلے اور لال بڑے بڑے پھول لگے تھے۔

    ایک مرد اور عورت سرسوں کے یرقان زدہ کھیتوں میں بنی پتلی سے پگڈنڈی پر لائن بنا کر آگے پیچھے چل رہے تھے ، عورت کا لال ڈوپٹہ ہوا میں لہراتا تھا۔۔۔۔ بستیاں ، گھر ، ڈیرے ، کھیت ، جانور ، لوگ ، سب گزرتے جا رہے تھے۔۔۔ ساری خدائی کسی نہ کسی کام میں مشغول تھی۔۔۔ پھر بگلوں کا ایک جوڑا کھیتوں کے اوپر گاڑی کے ساتھ ساتھ اڑنے لگا تو دل شاد ہو گیا۔۔۔۔

    گاڑی کے اندر کے انسانی مصنوعی پن سے لے کر گاڑی کے باہر کے انسان کا بے ساختہ پن دیکھتے دیکھتے ذہن میں پتہ نہیں کیا کیا خیال آتے رہے۔۔۔ اندر انسان کا روپ کیسا مصنوعی تھا اور باہر انسان کیسے قدرتی روپ میں موجود تھا اور میں دونوں کے بیچ جیسے خلا میں معلق تھا۔۔۔۔۔

    بس ہوسٹس نے پانی کا پوچھا تو باہر سے دھیان ٹوٹا ، ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔۔۔ اس نے پانی گلاس میں ڈالا تو میں نے دیکھا کہ ہوسٹس کے چہرے پر مصنوعی پن کی کئی تہیں جمی تھیں۔۔۔۔ میں یہ سوچ کر مسکرا دیا تو وہ بھی مصنوعی سی مسکرا دی۔۔۔۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply