آم: پھلوں کا بادشاہ

آم: پھلوں کا بادشاہ

    by -
    0 93

    آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ گرمی اپنے جوبن پر پہنچ چکی ہے لہذا اب پھلوں کے بادشاہ کی بھی آمد آمد ہی ہے۔ شدید گرمیوں میں پکنے والے اس پھل کے بارے میں اطباء کا یہ کہنا ہے کہ یہ مزاج کے اعتبار سے ٹھنڈا ہے جبکہ میڈیکل سائنس کے مطابق یہ وٹامن اے کا خزانہ ہے۔

    آم چاہے کچا ہو یا پکا، ہر لحاظ سے ہر عمر کے افراد کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لیتا ہے۔ پاکستان میں فروری کے اوائل میں آم کے درخت پیلے پھولوں سے ڈھک جاتے ہیں۔ اور پھر جب موسم کی کروٹیں پھولوں کو آم کی ننھی کونپلوں میں ڈھالتی تو جا بجا آموں کے گچھے دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ جون کے ابتدائی ایام سے آم مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے۔

    آم کوئی ’عام‘ پھل نہیں ہے بلکہ یہ بہت ہی خاص ہے۔ قدرت کا یہ لذیذ تحفہ اپنے اندر بہت سی خصوصیات سموئے ہوئے ہے اور صدیوں سے یہ نسل انسانی کے ذوق کی تسکین کرتا چلا آ رہا ہے۔ حالانکہ گرمیوں کے موسم میں مختلف پھلوں کی بھرمار ہوتی ہے لیکن جو اہمیت آم کے حصے میں آتی ہے وہ کسی اور پھل کے حصے میں نہیں۔

    یہ ذائقے کے اعتبار سے نہایت میٹھا، گودا نرم جبکہ اس کی کھال باریک ہوتی ہے۔ کچے آموں کا استعمال چٹنیوں اور مربہ جات میں بھی کیا جاتا ہے۔ جبکہ سخت گرمیوں میں پکے آموں سے مزے دار مشروبات بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ کئی پکوانوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر عمر کے افراد اپنے مزاج کے مطابق اس پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    آم کا درخت عام طور پر 15 سے 25 فٹ تک بلند ہوتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں اس کی پیداوار کئی ہزار سالوں سے ہو رہی ہے۔ کیونکہ آم کی پیداوار عام طور پر ان علاقوں میں زیادہ ہوتی ہے جہاں کی آب و ہوا گرم ہو۔

    آم کو بھارت کا قومی پھل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور پیداوار کے لحاظ سے بھی انڈیا دنیا میں سب سے آگے ہے۔ آم کی پیداوار کے حساب سے پاکستان کا نمبر چوتھا ہے جبکہ اس پھل کی برآمد کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اپنے منفرد ذائقے، رنگ اور خوشبو کی وجہ سے پاکستان کا آم بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

    پاکستان میں آم کی ایک سو سے زائد اقسام موجود ہیں۔ ان میں سے جن اقسام کو ملک بھر اور عالمی سطح پر شہرت حاصل ہے ان میں چونسا، لنگڑا، دوسہری، سندھڑی اورانور ریٹول وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کو بین الاقوامی مارکیٹ میں سب سے زیادہ مسابقت کا سامنا انڈین آم سے ہے جہاں کی معروف ترین قسم الفانسو ہے۔

    آم چاہے کچا ہو یا پکا یہ بہت سی چیزوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کی گٹھلی سے  بہت سی آریوویدک  دوائیں بنائی جاتی ہیں۔ بھارت میں اس کے پتے شادیوں یا کسی خوشی کے موقع پر گھروں کی سجاوٹ کے لیے استعمال کیے جاتے  ہیں۔ آسٹریلیا میں ’پیلے آم‘ خصوصی طور چیریٹی کے مقصد کے تحت فروخت کیے جاتے ہیں۔

    NO COMMENTS

    Leave a Reply