پہاڑوں میں ڈھلتی شام اور آوارگی کے دن رات

پہاڑوں میں ڈھلتی شام اور آوارگی کے دن رات

    by -
    0 0
    Rama Meadows

    شام ڈھلے پہاڑوں میں خالص عبادت کا وقت ہوتا ہے۔ دور کہیں آسمان وادی کے گلے مل کر جدائی کا گیت گاتا ہے، سورج آخری سجدہ دے کر کائنات بنانے والے کا اعتراف کرتا ہے۔ درخت سورج سے بچھڑ کر یوں لگتے ہیں جیسے سیاہ فام قوم دھانی اور مجلگی اوڑھنیاں اوڑھ کر قطار اندر قطار وداع کا گیت گا رہے ہوں۔ پہاڑوں میں شام ڈھل رہی ہو تو فطرتا اُداسی کی کیفیت غالب رہتی ہے۔ پرند چپ چاپ سرمئی آسمان تلے اپنے ٹھکانوں کو لوٹنے لگتے ہیں ، بہتے پانی تھمنے لگتے ہیں، گرتی آبشاروں کی روانی میں سُستی آتی جاتی ہے، مویشی کے گلوں میں بندھی گھنٹیاں بھی آہستہ آہستہ بجتی محسوس ہوتی ہیں۔
    گھروں کو لوٹتے تھکے ہارے لوگ، تلاشِ رزق میں صبح سے سرکرداں تھکے ماندے چرند، فصلوں پر چھاتی ہلکی دھند یا گہری پیلی آخری سورج کی کرنیں جو تھکاوٹ سے چُور روشنی بکھیر رہی ہوتی ہیں۔ گُنگ کھڑے پیڑ، ماند پڑتے پھول،  بل کھاتے کچے راستے پر ایک بزرگ لالٹین لیے ایسے چل رہے تھے جیسے ان کے کمر پر بوجھ لدا ہو۔ یہ یہاڑی لوگوں کی بھی اپنی ہی خاص چال ہوتی ہے۔ چڑھائی کے وقت اور، اترائی کے وقت اور۔ صنوبر کے پتوں کے خوشبو وادی میں پھیلی تھی۔ کبھی سکون سے ایک جگہ بیٹھ کر پہاڑوں میں غروب آفتاب کے بعد کا منظر دیکھا ہے آپ نے؟
    آوارگی کے دن رات بھی عجب ہوتے ہیں جب آپ ان لمحوں سے گزر رہے ہوتے ہیں تو وہ آپ کو عام سے لگتے ہیں لیکن سفر ختم کر کے گھر میں پڑے کچھ ماہ بعد اسی سفر کی یادیں ہانٹ کرنے لگتی ہیں۔ ایک تخلیق کار کے لیے اپنے ماحول کو اس حد تک محسوس کرنا کہ وہ اپنے آپ کو بھی اسے ماحول کا ازل سے حصہ سمجھنے لگے میرے خیال میں ضروری ہے۔
    تخلیق سب سے بڑی رہائی ہے۔ الفاط سے اظہار ہو یا کینوس سے، گیت میں ڈھلے یا ساز میں، جو تخلیق کار نہیں ہوتے وہ اپنے سے باہر نہیں نکل پاتے۔ یہ سب سے بڑی رہائی ہے۔ اپنے چکر سے نکل کر کسی اور چکر میں داخل ہو جانے کا نسخہ۔ یہ سب زنجیریں کاٹتی اور آزاد کرتی ہے۔ خدا اسی سے آزاد ہے اور بے نیاز ہے۔ اسے کچھ درکار نہیں۔ وہ نعمتیں بناتا ہے لیکن اپنے لیے نہیں رکھتا۔ جب سے ہے مسلسل تخلیق کیے جا رہا ہے۔ انسان کے لیے اپنے آپ سے رہائی پانے، اوپر اُٹھنے کا بہت ہی آسان نسخہ ہے لیکن اس کے لیے احساسات کا زندہ رہنا شرط ہے ۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply