انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہمارے بچے

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہمارے بچے

    by -
    0 140
    Image source: themodernparent.net

     عصر حاضر میں تبدیلیوں کی رفتار کو بھی گویا پر لگ گئے ہیں۔ قریب دو دہائیاں قبل الیکٹرانک میڈیا کے نام پر صرف ٹی وی اور ریڈیو ہوا کرتا تھا لیکن موجودہ دور میں یہ شعبہ ایک ایسی صنعت کی صورت اختیار کر چکا ہے جس سے امیر، غریب، بوڑھے، جوان اور بچے سبھی مستفید یا متاثر ہو رہے ہیں۔

    جس تیزی سے الیکٹرانک میڈیا نے ترقی کی ہے اتنی ہی تیزی سے اس نے ہماری زندگیوں کو متاثر بھی کیا ہے بلکہ یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب بڑے ہی نہیں بلکہ بچے بھی اپنی علمی ضروریات کے علاوہ دیگر مصروفیات اور دلچسپیوں کے لیے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز کے محتاج نظر آتے ہیں اور ان چیزوں کے بغیر تو جیسے ان کا ایک پل نہیں گزرتا۔

    یہ مانا کہ کوئی بھی چیز بذات خود اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا بُرا بناتا ہے۔ کمپیوٹر، انٹر نیٹ، ٹی وی اور اسی قبیل کی دیگر ٹیکنالوجی تیار تو انسان کی بہتری کے لیے گئی تھی مگر دیگر لاتعداد ایجادات کی طرح ان چیزوں کے ہمارے معاشرے اور افراد پر مثبت کے ساتھ ساتھ منفی اثرات بھی عیاں ہیں اور خاص طور پر ہماری نوجوان نسل اور بچے ان مضر اثرات سے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

    پہلے وہ بچے جو میدانوں اور گلی محلوں میں نکل کر جسمانی طور پر صحت مند رکھنے والے کھیل کھیلا کرتے تھے، اب اسکول سے لوٹنے کے بعد یا تو ٹیلی وژن اسکرین کے سامنے ڈیرا ڈال لیتے ہیں اور گھنٹوں کارٹون یا دیگر پروگرام دیکھ کر گزار دیتے ہیں یا پھر گیمز اور سرچنگ کے نام پر کمپیوٹر پر پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ والدین اگر روکنا ٹوکنا چاہیں تو ان کے پاس انہیں لاجواب کرنے کو ڈھیروں دلائل موجود ہوتے ہیں۔ پھر یہی نہیں، ہمارے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی عمر کے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون ہونا بھی جیسے لازمی امر بنتا جا رہا ہے۔

    گھر سے باہر نکل کر کھیل کود چھوڑنے کے سبب بچوں کو صحت کے مسائل بھی لاحق ہو رہے ہیں۔ وہ نہ صرف موٹاپے کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ دیگر بچوں کے ساتھ مل کر کھیلنے سے ٹیم اسپرٹ اور سماجی تعلقات کے حوالے سے تربیت کے جو مواقع ملتے تھے وہ اب اس سے محروم ہیں۔ دوسری طرف اب بچے ماں باپ سے چھپ کر ایسے مواد تک بھی رسائی حاصل کر لیتے ہیں جو ہماری ثقافت اور تہذیب کے حساب سے بالکل غلط ہیں۔

    بچے قوم کا مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں اور  کسی بھی معاشرے کی ترقی کا انحصار دراصل بچوں کی بہتر تعلیم اور تربیت کا ہی مرہون منت ہوتا ہے۔ دنیا میں ترقی وہی قومیں کرتی ہیں جو زمانے کی ضرورتوں کے پیش نظر اپنی نئی نسل کی تربیت کرتی ہیں۔ والدین ہونے کے ناطے اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جہاں ایک جانب اپنے بچوں میں جدید ٹیکنالوجی کا شعور اجاگر کریں تو دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچاؤ بھی یقینی بنائیں۔ خاص طور پر ماؤں کو چاہیے کہ وہ اس بات پر نظر رکھیں کہ ان کے بچے ٹیلی وژن پر کون سے پروگرام دیکھ رہے ہیں اور انٹرنیٹ پر کس طرح کی معلومات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ایک احتیاط جو بہت زیادہ مددگار ثابت ہو سکتی ہے وہ ٹیلی وژن اور کمپیوٹر کو کسی ایسے کمرے میں رکھنا ہے جہاں گھر کے تمام لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہو۔  دوسری احتیاط یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کمپیوٹر کی اسکرین کا رُخ دیوار کی جانب نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح مائیں آتے جاتے دیکھ سکتی ہیں کہ بچے کمپیوٹر پر کیا کام کر رہے ہیں۔

    یاد رکھیے بچوں کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی تک ان کی رسائی کے حوالے سے توازن کی فضاء کو برقرار رکھتے ہوئے ہی ہم آنے والے وقت کے لیے ایک اچھے اور بہتر معاشرے کی بنیاد ڈال سکتے۔ تاکہ ہمارے مستقبل کے یہ معمار اچھی سوچ، منفرد  طرز عمل اور صلاحیتوں کے بہتر استعمال کے ساتھ ایک کارآمد اور مفید شہری بن سکیں۔ 

    Nadia Mustafa
    Nadia Mustafa completed her Masters in Mass Communication with distinction. After completing her studies she opted to start family and raise her her kids. She has started writing for globalperspect.com

    NO COMMENTS

    Leave a Reply