ایک ناکام محبت کی پرانی کہانی

ایک ناکام محبت کی پرانی کہانی

    by -
    0 0

    فون پہ بات چیت کا یہ سلسلہ میرے دل میں گھر کرتا گیا اور آھستہ آھستہ اُنسیت میں تبدیل ھوتا گیا ۔ ملاقات کی تڑپ جاگ اٹھی۔

    Picture: S.M.Bukhari

    پرانی بات ہے۔ ابھی موبائل فون کا رواج نہیں آیا تھا۔ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اس زمانے کی پی ٹی سی ایل کے دو فون تھے۔ جب موقع ملتا ایسے ہی ادھر اُدھر کا نمبر ملاتا کہ شاید کسی مہوش سے بات ہو جائے۔ میرے دو تین دوستوں کی اسی طرح دوستی ہو چکی تھی اور وہ اس بات پہ بہت نازاں تھے۔ 

    کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک دن حسبِ معمول کوششوں میں لگا ہوا تھا کہ فون کی دوسری جانب ایک نفیس سی کھنکتی ھوئی زنانہ آواز ابھری۔ پہلے تو میرے اپنے اوسان خطا ہو گئے لیکن اپنے آپ سے کہا “بیٹا ایسا موقع پتہ نہیں پھر ملے نہ ملے ھمت نہیں ہارنی چاہیے” چنانچہ تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتے السلام و علیکم کہا اور بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ امجد گھر پر ہے کیا؟ جواب آیا یہاں پر امجد نہیں رہتا۔ اس پر میں نے کہا شاید رانگ نمبر مل گیا ہے اور بات کو لمبا کرتے ہوئے کہا آپ کو خواہ مخواہ زحمت دی جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ بات کو مزید جاری رکھتے ہوئے نہایت شستہ انداز میں وضاحت کی کہ وہ میرا کلاس فیلو ہے اور آج ہم نے مل کے اسائنمنٹ تیار کرنی تھی جس کے لیے اس نے یہاں ہاسٹل آنا تھا۔ 

    دوسری طرف سے رس گھولتی آواز نے کہا کوئی بات نہیں۔ اس پہ جلدی سے کہ مبادا فون بند نہ کر دیا جائے ہم نے ہمت کر کے کہا کہ معلوم ہوتا ہے آپ بھی میری طرح سٹوڈنٹ ہیں ۔ اس پہ میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب فون بند کرنے کی بجائے جواب آیا ہاں میں کالج میں پڑھتی ہوں۔ اب باقاعدہ گفتگو شروع ہو گئی۔ ایک دوسرے کے سبجیکٹ پوچھے گئے۔ پڑھائی کے معاملے میں پیش آنے والی مشکلات وغیرہ کا ذکر ہوا۔ چونکہ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے اس لیے مشکلات کے حل کے لیے میں نے اپنی ممکنہ خدمات پیش کر دیں۔ اس طرح یہ رانگ نمبر واقفیت میں بدل گیا اور پھر وقتا” فوقتا” فون آنے جانے لگ گئے۔ 

    فون پہ بات چیت کا یہ سلسلہ میرے دل میں گھر کرتا گیا اور آھستہ آھستہ اُنسیت میں تبدیل ہوتا گیا۔ ملاقات کی تڑپ جاگ اٹھی۔ اس پر اپنے ایک جہان دیدہ کلاس فیلو سے مشورہ کیا تو پہلے پہل اس نے مذاق اڑایا کہ چیونٹی کے بھی پر نکل آئے ہیں۔ بعد میں مشورہ دیا کہ اب بلا جھجک ملاقات کی بات کر دی جائے اور اظہارِ محبت کیا جائے۔ گزارش کی کہ گھبراہٹ ھوتی ہے۔ کہا خط لکھ کے کہہ دو۔ چنانچہ میں نے ڈرتے ڈرتے ایک خط لکھا، “مجھے نہیں معلوم کہ فون پہ ہونے والی باتوں کا سلسلہ کب ایک کسک میں تبدیل ھوا اور دل میں آپ سے ملنے کی تمنا جاگ اٹھی ۔ کیا آپ اس صورتِ حال میں میری مدد کر سکیں گی ” 

    خاطر خواہ اور مثبت جواب آیا اور کہا گیا کہ پہلے میں ان کی گلی کا چکر لگاوں تا کہ وہ مجھے ایک بار دیکھ لے۔ مگر مسئلہ یہ ھوا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں ہوتی تھی نہ ہی اچھے کپڑے۔ ایک اچھی رنگین دھاریوں والی امپورٹڈ قمیض اور فیشنی جینز کی پینٹ خریدی جس کی خریداری میں سارے ماہ کی پاکٹ منی لگ گئی۔ سواری کے سلسلے میں ایک دوست نے مہربانی کی اور اپنی موٹر سائکل دیدی لیکن چونکہ مجھے چلانی نہیں آتی تھی اسی دوست سے عرض کی کے وہ مجھے وھاں لے جائے ۔ کچھ رد و کد کے بعد میری حالت پہ ترس کھا کے راضی ھو گیا ۔ وقت اور دن طے کیا۔ نشانی کے طور پر موٹر سائکل کا نمبر بھی بتا دیا تاکہ پہچاننے میں کوئی دقّت نہ ھو ۔ 

    مقررہ دن کو قمیض اور بلیو جینز پہنی ۔ ایک دوست کے فیشنی گاگل آنکھوں پہ چڑھائے اور مانگے کی موٹر سائکل پہ ڈرائیور ( موٹر سائکل کے مالک ) کے پیچھے بیٹھ کر اس احتیاط کے ساتھ کوچہء جاناں کو چل دیا کہ اس کے کپڑے اور گیٹ اپ بالکل سادہ اور مجھ سے کمتر ھو کیونکہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔ وہ بالکونی میں کھڑی میری راہ دیکھ رھی تھی ۔ آسمانی رنگ کے سوٹ میں کسی اپسراء سے زیادہ خوبصورت لگ رھی تھی ۔ موٹر سائکل کو پہچان گئی چوری چھپے ھاتھ ھلایا ۔ میں نے بھی شرماتے جھجھکتے ہلکا سا جوابی ھاتھ ھلایا اور ساری گلی اسے خوشی سے مڑ مڑ کے دیکھتا گیا۔

    اپنی اس عظیم کامیابی پر بہت خوش ھاسٹل پہنچا تو رھا نہ گیا اور اسے فون کیا اور پوچھا کہ میں اس کو کیسے لگا؟ اُس کی آواز میں بھی خوشی جھلک رھی تھی۔ چہک کر بولی ” آپ بہت اچھے اور پیارے لگ رھے تھے لیکن یہ باندر کون تھا جو آپ کے پیچھے بیٹھا تھا”.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply