بحیره عرب کے کھلے سمندر پر بیتی شام

بحیره عرب کے کھلے سمندر پر بیتی شام

    by -
    0 83

    سامنے بندرگاه تھی اور میں جیسے جہاز کے عرشے پر کھڑا بت بن چکا تھا۔ میرے مقدر کی لکیر میں روم کے سفر کی لکیر اُبھر آئی تھی۔ اگلی صبح مجھے روم نکل جانا تھا۔ بحیره عرب کے کھلے سمندر پر بیتی شام نے اب ایک عمر تک مجھے سلگائے رکھنا ہے۔

    Image source: buissonguesthouse.com

    وکٹوریا کی بندرگاه چھوڑے گھنٹه بھر هو چکا تھا۔ فیری اب بحیره عرب کے کھُلے سمندر میں جھولتی چلی جا رہی تھی۔ اس کی سمت مڈغاسکر کی طرف تھی۔ براعظم افریقه کی حدود میں آسمان شفاف اور روشن تھا۔ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔

    میں بحیره عرب کے ایک جزیرے لا ڈیگ پر جا رہا تھا۔ تین کلومیٹر لمبا اور محض ایک کلومیٹر چوڑا ناریل کے درختوں میں گھِرا یہ جزیرہ اُتھلے پانیوں والے شفاف ساحلوں کی وجه سے دیکھنے کے قابل ہے۔ ایسا گمان ہوتا ہے، جیسے کسی مصور نے بہت سوچ کر اپنے تخیل کے زور پر اسے بنایا ہو۔

    فیری میں یورپی سیاحوں کی کافی تعداد سفر کر رہی تھی۔ ہال ایئرکنڈیشنڈ تھا۔ سمندر پر ڈولتی فیری کے اندر زیاده دیر بیٹھا نہیں جا سکا تو میں اُٹھ کر اس کے عرشے پر آ گیا۔ عرشه سنسان پڑا تھا، میرے علاوه کوئی اور موجود نہیں تھا۔ حدِ نظر تک نیلے پانی تھے، کھُلا سمندر تھا۔

    آسمان پر بادل کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ جن کا عکس پانیوں پر جھلکتا مگر فیری کے انجن سے پیدا ہونے والی لہریں سطح پر ارتعاش پیدا کر دیتیں۔ میں نے دو چار تصویریں لیں اور عرشے پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ ہوا سے بال بکھر رہے تھے۔ پانی کی پھوار بھگو رہی تھی۔

    سمندر کے اندر ایک دنیا آباد ہے مگر سمندر کے اوپر بھی زندگی موجزن تھی۔ فلائنگ فِش پانی سے نکلتیں اور دور تک ہوا میں اپنے پنکھ پھیلا کر اڑتی جاتیں اور پھر پانی میں غائب ہو جاتیں۔ ۔ سطح کے چند انچ اوپر اڑتے هوئے یه مچھلی بالکل پرنده معلوم هوتی تھی۔ وہیں اوپر کالے رنگ کے پرندے منڈلا رہے تھے جن کا نام مجھے نھیں معلوم۔ ایک فلائنگ فِش نے پانی سے باہر نکل کر اڑان بھری تو ایک پرندے نے اسے شکار کر لیا اور چونچ میں دبا کر دور اڑ گیا۔ پھر نظر کے سامنے مصور کی تصویر کھُلی۔ فیری نے بھونپو بجایا اور لا ڈیگ کے ساحل پر لنگر ڈال دیا۔

    Image Source: www.thobareisen.de
    Image Source: www.thobareisen.de

    ساحل پر اترا تو یوں لگا جیسے میں کسی پینٹنگ کا حصه بن گیا ہوں۔ سبز شفاف اُتھلے پانیوں کا ساحل تھا جس کے کناروں پر چٹانیں اور سفید ریت تھی۔ ناریل کے درخت تھے۔ سورج کی روشنی پانی کی تہه تک اترتی اور منعکس ہو کر یوں لگتا جیسے کناروں پر پانی کی نہیں روشنی کی لہریں ہوں۔ اندر سفید اور رنگین چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تیرتی دکھائی دیتیں۔ وہیں کہیں سے اکارڈین کی آواز گونجی۔ دُھن محسور کن تھی۔ ایک افریقی فنکار بڑے سے پتھر پر بیٹھا مست هو کر اکارڈین بجا رہا تھا۔ میں اس کے سامنے رک کر سننے لگا۔ اس نے ہیٹ اتار کر خوش آمدید بولا تو میں نے پچاس مقامی روپے اس کے سامنے رکھ دیے۔ دن بھر اکارڈین کی دھنیں گونجتی رہیں۔ میں فوٹوگرافی کرتا رہا اور کبھی تھک کر ریت پر بیٹھ جاتا۔ شام ڈھلنے لگی تو فیری نے واپسی کا بھونپو بجا دیا۔

    واپسی کا سفر شروع ہوا تو شام ڈھل رہی تھی۔ جہاز کے عرشے پر کھڑا میں ڈھلتے سورج کو دیکھ رہا تھا۔ پھر شام کے رنگ بکھرنے لگے۔ بادلوں کے ٹکرے رنگے گئے۔ پانیوں پر عکس جھلکنے لگا۔ کھلے سمندر میں غروب آفتاب دیکھ کر دل میں بھی لہریں اٹھنے لگیں۔

    تصویریں لے کر میں نے کیمرا رکھ دیا۔ کچھ پل یا کچھ لمحے صرف اپنے لیے ہوتے ہیں جن کو فوٹوگراف نھیں کیا جا سکتا۔ بحیره عرب پر سورج ڈوبتا جا رہا تھا۔ پھر پانی میں اتر کر بجھ گیا۔ ہوا میں نمی بھر آئی۔ تاریکی پھیلنے لگی۔ سامنے وکٹوریا کی بندرگاه کی روشنیاں نظر آنا شروع ہو گئیں۔ فیری نے بھونپو بجایا تو اس کی آواز بحیره عرب کی نم فضا کو تار تار کرتی پھیل گئی۔ کھلے سمندر میں ایسا منظر میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ قدرت کا شکرگزار تھا که اس نے اپنے رنگوں میں سے کچھ رنگ مجھے دکھا دیے تھے۔ سامنے بندرگاه تھی اور میں جیسے جہاز کے عرشے پر کھڑا بت بن چکا تھا۔ میرے مقدر کی لکیر میں روم کے سفر کی لکیر اُبھر آئی تھی۔ اگلی صبح مجھے روم نکل جانا تھا۔ بحیره عرب کے کھلے سمندر پر بیتی شام نے اب ایک عمر تک مجھے سلگائے رکھنا ہے۔

    NO COMMENTS

    Leave a Reply