“بس بی بی بہت ہو گئی اے ساڈے نال، توں سانوں کسی...

“بس بی بی بہت ہو گئی اے ساڈے نال، توں سانوں کسی وی جگہ لا دے”

    by -
    0 0

    کئی سفر ایسے خوفناک ہوتے ہیں کہ انسان کے ذہن پر اس کے نقوش کافی عرصہ باقی رہتے ہیں۔ مجھے موت سے کبھی ڈر نہیں لگا لیکن مرنا سہولت کے ساتھ چاہتا ہوں کم سے کم جہاز کریش میں تو بالکل نہیں۔ ملائیشیا کا سفر اب بھی کئی بار خواب میں آتا ہے تو ڈر کے آنکھ کھل جاتی ہے۔ یہ تھائی ائیرویز کی فلائیٹ تھی جن کا موٹو ہے”Smooth Like Silk”۔ لاہور سے ملائیشیا جاتے ہوئے خلیج بنگال کے اوپر جہاز طوفان اور بادلوں میں پھنس گیا تھا۔ میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک پنجابی بیٹھا تھا۔ لاہور سے روانہ ہوتے ہی جب کیپٹن کی نسوانی آواز ٹیک آف سے پہلے گونجی تو ساتھ والے آدمی کے منہ سے بے ساختہ نکلا “خدا خیر ہی کرے پائیلٹ وی زنانی جے”۔ خلیج بنگال کے اوپر پرواز کرتے جہاز نے طوفانی بادل کو ہِٹ کیا۔ شروع میں تو ہلکے جھٹکے لگنا شروع ہوئے مگر پھر صورتحال خوفناک ہوتی گئی۔ کھڑی سے باہر بجلیاں چمک رہی تھیں اور میری نظر جہاز کے پر پر ٹکی تھی جو ایسے جھول رہا تھا جیسے پرندہ پرواز کے وقت اوپر نیچے اپنے پر ہلاتا ہے۔ کیپٹن کی نسوانی آواز گونجتی رہی جہاز نے ہچکولے کھانا شروع کر دیئے تو ساتھ والے مسافر نے زور سے میرا بازو پکڑ کر پھر بولا “یا اللہ مدد کریں پائیلٹ وی بیبی اے”۔ کیبن کریو بچوں اور بزرگوں کی سیٹ بیلٹ باندھنے لگے مگر جہاز کے جھٹکے اتنے تیز تھے کہ ان سے کھڑا نہیں ہوا جاتا تھا اور پھر جہاز نے زوایہ بدلا۔۔۔ آگے سے نیچے کی طرف جھکا اور گرتا ہی چلا گیا۔۔۔ سیٹ پر بیٹھے ایسا لگتا تھا جیسے فری فال کوئی چیز نیچے کو مسلسل گر رہی ہو۔۔ اندر بچوں اور عورتوں کی چیخیں گونجنے لگیں جو بڑھتی ہی گئیں۔۔ خالی کپ اور دوسری چیزیں لڑکھڑانے لگیں۔ 

    جھٹکوں کے ساتھ مسلسل نیچے گرتے جہاز نے بلآخر مجھے کلمہ پڑھنے پر مجبور کر دیا، میں نے اس لمحے سوچ لیا تھا کہ یہ آخری پرواز ہے۔ کیپٹن کی نسوانی آواز نے میرے وہم کو یقین میں بدل دیا جب اس نے اعلان کیا، 

    Cabin crew attention , please prepare for emergency lending in Calcutta 

    مجھے مسافر ہوتے ہوئے کلکتہ کی زمین پر پاؤں رکھنے کا شوق تو تھا مگر اس طرح نہیں۔ جہاز کے اندر کے ڈراؤنے ماحول اور گونجتی چیخوں نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ شاید بچنے والی کوئی بات ہی نہ ہو۔ نیچے سمندر تھا۔۔۔ خوفناک بیس پچیس منٹ گزارنے کے بعد جہاز کچھ سنبھلا۔۔۔ سیدھا ہوا۔۔۔ اور آہستہ آہستہ نارمل ہوتا گیا۔۔۔ بتیس ہزار فٹ سے نیچے گر کر اب اسکرین پر سولہ ہزار فٹ کا فگر نظر آنے لگا۔۔۔ کیپٹن نے جہاز کے سنبھلنے کے بعد اعلان کیا کہ ہم طوفان سے نکل آئے ہیں ، صورتحال کنٹرول میں ہے اور نارمل ہے۔ اب جہاز بنکاک ہی اترے گا جہاں اترنا تھا اسے۔۔۔ ساتھ والا مسافر پھر بولا “بس بی بی بہت ہو گئی اے ساڈے نال، توں سانوں کسی وی جگہ لا دے”

    اس سفر نے مجھ پر ایسا اثر کیا کہ میں نے اس کے بعد جہاز پر بیٹھنا چھوڑ دیا۔ ان دنوں میرا کراچی اکثر آنا جانا ہوتا تھا۔ پہلے تو میں پی آئی اے کی لیٹ نائیٹ فلایئٹ لاہور سے لے لیتا تھا مگر اب ٹرین سے جانے لگا یا بذریعہ سڑک۔۔ مجھے فلائیٹ فوبیا ہونے لگا تھا۔ پھر دو سال ایسے ہی گزار کر ایک بار پھر جہاز سے سفر کرنا پڑ گیا مجبوری میں تو میں نے نیند کی گولیاں کھا لیں اور سو گیا۔۔ 

    تین ماہ پہلے جون میں دبئی سے روم جاتے ہوئے ائیر امارات کی پرواز سمندر کے اوپر پھر سے لڑکھڑانے لگی۔۔ اتفاق سے اس کی پائیلٹ بھی کوئی عورت تھی۔ مجھے اب عادت ہو چکی تھی تو میں پرسکون رہا۔۔ جب پائیلٹ کی نسوانی آواز گونجی تو میرے ساتھ بیٹھا ایک پاکستانی نوجوان بولا “چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر ہم اب اس لڑکی کے رحم و کرم پر ہی ہیں دعا ہی کر سکتے ہیں کہ پہنچ جائیں روم “۔۔۔ مجھے سن کر ملائیشیا کا ہمسفر یاد آ گیا۔ میں نے جواب دیا “عورت بطور پائیلٹ اتنی خطرناک نہیں جتنا بطور ڈرائیور خطرناک ہے”۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply