بہاولپور کا کلا دھاری مندر، حکمرانوں کی ذرا سی توجہ کا منتظر

بہاولپور کا کلا دھاری مندر، حکمرانوں کی ذرا سی توجہ کا منتظر

    by -
    0 0

    بہاولپور شہر کے طول و عرض میں متعدد قدیم عمارات، محلات، عبادت گاہیں اور کھنڈرات آج بھی عہدِ رفتہ کی یاد دلاتے ہیں۔ غیر مسلموں کی عبادت گاہیں اس علاقے کی بین المذاہب ہم آہنگی کی روایات کی امین ہیں۔ بہاولپور شہر میں فرید گیٹ میں داخل ہو کر ہم شاہی بازار سے گزرتے ہوئے قدیم محلہ ’پھٹوں والی گلی‘ تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہیں تقریباََ تین سو برس قدیم شری نانی دیوکلا دھاری جی مہاراج مندر ہے جو اب کلا دھاری مندر کے نام سے مشہور ہے۔

    Kaladhari Temple Bahawalpur2

    یہ مندر اپنے فنِ تعمیر، نقش و نگار خصوصاََ لکڑی کے ڈھانچے اور اس پرکندہ مورتیوں کے باعث ایک جداگانہ حیثیت کا حامل ہے۔ مندر کا مرکزی دروازہ لکڑی کا تھا جس پر نقش و نگار اور وشنو قبیلے  کے دیوتاؤں کی تصاویرکندہ تھیں۔ تاہم اب یہ دروازہ بہاولپور کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

    Kaladhari Temple Bahawalpur1

    آج کل مندر میں میونسپل کارپوریشن بہاولپور کے زیر انتظام ایک پرائمری اسکول قائم ہے۔ مندر کا کنٹرول محکمہ متروک وقف املاک کے پاس ہے جس نے مندر کی بالائی منزل کرائے پر دی ہوئی ہے۔ تاریخی اہمیت کے حامل اس مندر کو محفوظ کرنے کے لیے وسیع فنڈز درکار ہیں جن کی عدم دستیابی کے باعث مندر کی عمارت شکست و ریخت کا شکار ہے۔

    Kaladhari Temple Bahawalpur

      ستم ظریفی یہ ہے کہ بہاولپور میں عجائب گھر ہونے کے باوجود مندر کی نایاب اشیاء کو لاہور کے عجائب گھر میں منتقل کر دیا گیاہے۔ مندر کی پر شکوہ عمارت تا حال فن تعمیر کی وجہ سے بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔ اگر محکمہ آثار قدیمہ اور اوقاف مناسب توجہ دے تو تاریخ کی اس یاداشت کو محفوظ کیا جا سکتاہے۔ لیکن ہمارے حکمران اور ادارے شاید یہ بھول گئے ہیں کہ جو قومیں اپنی تاریخ بھلا دیتی ہیں تاریخ انہیں بھلا دیتی ہے۔

    NO COMMENTS

    Leave a Reply