جنت نظیر، کوئکن ہوف گارڈنز

جنت نظیر، کوئکن ہوف گارڈنز

    by -
    0 156

    خدا  نے اپنی  وسیع و عریض اور خوبصورت دنیا میں جا بجا  اپنی قدرت کی  صناعیاں بکھیر رکھی ہیں۔  ایسے خوبصورت مقامات دیکھ کر بے اختیار یوں لگتا ہے جیسے  وہ جنت جس کی منظر کشی  الہامی، مذہبی اور افسانوی کتابوں میں کی گئی ہے ، اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ انسان کے سامنے جلوہ گر   ہے۔ بعض جگہیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی خوبصورتی   کے پیچھے قدرت کے ساتھ ساتھ  سخت انسانی محنت اور کاوش بھی  کار فرما  ہوتی ہے۔ 

    مجھے بھی ایک ایسی ہی ایک انتہائی حسین جگہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ علاقہ یورپی ملک ہالینڈ کے جنوب میں واقع ایک  خوبصورت قصبے  لیزے  کے ارد گرد کا علاقہ، جہاں پھول اگائے جاتے ہیں اور لیزے میں موجود ایک  انتہائی دلکش ’’کوئکن ہوف گارڈن‘‘ ہے۔ اسے ‘گارڈن آف یورپ’ یعنی یورپ کا باغ بھی کہا جاتا ہے۔

     

    IMG_8160

     

    کوئکن ہوف ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم سے  جنوب مغرب میں قریب 30 کلومیٹر دور ہے۔ اگر آپ بذریعہ ٹرین یا جہاز بھی ایمسٹرڈیم پہنچیں تو وہاں سے آپ کو  کوئکن ہوف جانے کے لیے نہ صرف  خصوصی ٹورسٹ بسیں  مل جاتی ہیں بلکہ لیزے تک جانے کے لیے ٹرین اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ بھی دستیاب ہے۔ 

     یہ دنیا میں پھولوں کا سب سے بڑا باغ ہے۔ کوئکن ہوف انتظامیہ کے مطابق  اس  پارک میں ہر سال قریب 70 لاکھ پھولوں کے پودے لگائے جاتے ہیں۔ کوئکن ہوف گارڈن 32 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس گارڈن کے اندرمختلف ناموں سے سات باغات اور انڈور ایریاز ہیں جہاں مختلف اقسام کے پھولوں کی انتہائی  دلکش انداز سے نمائش کی جاتی ہے۔ اس باغ کے اندر پیدل چلنے کے لیے  راستوں یا پگڈنڈیوں کی کُل لمبائی 15 کلومیٹر کے قریب ہے۔

    کوئکن ہوف سیاحوں کے لیے مارچ کے وسط سے لے کر مئی کے وسط تک کھُلا ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ تاریخیں  20 مارچ سے 20 مئی تک ہوتی ہیں۔ اگر اس باغ کی خوبصورتی سے پوری طرح لطف اندوز ہونا ہو تو وسط اپریل اس کی سیر کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ اس وقت پورے کوئکن ہوف میں لگے ہوئے گُل لالہ یعنی ٹیولپ کے پھول بھرپور رعنائیوں پر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ نرگس اور سنبل کے رنگ برنگے پھولوں کی بہار  جوبن پر ہوتی ہے۔ 

    کوئکن ہوف گارڈن 1949ء میں لیزے کے اس وقت کے میئر نے قائم کیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ ہالینڈ بھر میں  پھول اگانے والے کاشتکاروں کوبذریعہ نمائش  پھولوں کی نئی اقسام متعارف  کرانے کا موقع دیا جائے اور ڈچ ایکسپورٹ انڈسٹری کو فروغ دیا جائے۔ یہاں یہ بات بھی آپ کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگی کہ ہالینڈ پھول برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔

     

    IMG_8343-2

    ’’دور تک نگاہ میں ہیں گُل کھِلے ہوئے‘‘

    کوئکن ہوف گارڈنز کے علاوہ اس علاقے تک جانے والوں کے لیے   کاشت شدہ پھولوں کے وہ کھیت بھی خصوصی دلچسپی لیے ہوتے ہیں  جن میں خوبصورت رنگوں میں ٹیولپس، ڈیفوڈلز اور دیگر پھول   قطار اندر قطار اپنے جلوے بکھیر رہے ہوتے ہیں۔  پھولوں کی ایک قسم اور ایک رنگ کی طویل  قطار کے ساتھ اسی قسم کے پھولوں  کا دوسرا رنگ اور تیسری قطار میں تیسرا رنگ۔ یہ نظارہ دیکھنے والے کو مبہوت کر دیتا ہے۔ لیزے اور اس کے ارد گرد پھولوں کے یہ کھیت ہزاروں ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوتے ہیں اور موسم بہار میں یہ سارا علاقہ رنگوں میں نہایا ہوا  دکھائی دیتا ہے۔

    پھولوں کے سیزن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاح یہاں فوٹو گرافی اور فلم بندی کرتے نظر آتے ہیں۔   معروف بھارتی فلم سلسلہ سمیت بھارت کی کئی فلموں کی شوٹنگ بھی ان باغات میں ہو چکی ہے۔ سلسلہ فلم کا ایک گیت ’دیکھا ایک خواب‘ انہی پھولوں کے کھیتوں میں فلمایا گیا تھا جسے دیکھ کر فلم بین دنگ رہ گئے تھے۔

     

    IMG_8262-2

     

    سیاحت ایک صنعت

    مختلف  ممالک اپنے اپنے ہاں موجود قدرتی نظاروں  اور مقامات کے بارے میں دنیا بھر سے سیاحوں کو متوجہ کرکے  اربوں ڈالرز سالانہ کا زرمبادلہ حاصل کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو تے ہیں۔

    پاکستان میں بھی قدرتی طور پر حسین وادیوں، مرغزاروں اور دلکش نظاروں  کی کوئی کمی نہیں۔  پاکستان کے شمال مغربی علاقے اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے بعض علاقوں کی خوبصورتی یورپ  یا دنیا کے دیگر ملکوں  اور خطوں کے معروف ترین مقامات سے کسی طور پر کم نہیں ہے۔ لیکن اگر کمی یا فرق ہے تو محض یہ کہ  ہماری حکومتوں نے نہ تو ان علاقوں تک رسائی کے لیے سڑکوں، ریل اور دیگر ذرائع سمیت مناسب انفراسٹرکچر  تیار کرنے کی کبھی سنجیدہ کوشش کی ہے اور نہ ہی ان علاقوں میں پہنچنے والے ملکی یا غیر ملکی سیاحوں کے لیے ضروری بنیادی سہولیات کا کوئی انتظام کیا گیا ہے۔ طرہ یہ کہ لوگ سلامتی کی صورتحال کے سبب بھی ایسے علاقوں کا رُخ کرتے گھبراتے ہیں۔  اگر ان مسائل کو حل کر لیا  جائے تو پاکستان اپنی سیاحت کی صنعت سے ہی کثیر زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔

    NO COMMENTS

    Leave a Reply