جھیل سیف الملوک: ایک جادوئی داستان

جھیل سیف الملوک: ایک جادوئی داستان

    by -
    0 333

    گائیڈ کی ماں اس کی منتظر تھی، اپنا کون تھا؟ مجھے اپنی ماں کی یاد آئی۔ جھیل سیف الملوک سے بہہ کر آتے نالے کے ساتھ ساتھ چلتے ایک سرد آہ نکلی اور پانی کے کناروں پر بہتی نمزدہ ہَوا میں جذب ہو گئی۔

    Lake, Saif ul Malook

    جس صبح میں جھیل سیف الملوک کو منجمد حالت میں دیکھنے اور برفوں میں آوارگی کی غرض سے نکلا اس دن دور ہندوکش کے پہاڑوں پر پھر سے برف پڑ چکی تھی۔ میرے گھر کی چھت پر ہلکی دھوپ اُتر چکی تھی اور گملے میں سرخ گلاب تازه تازه کھِل چکا تھا۔ کلائی پر بندھی گھڑی آٹھ بجا رہی تھی۔

    گاڑی نے شہر کو چھوڑا تو دھوپ کی تمازت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ جی ٹی روڈ پر روشن صبح کی کھِلی دھوپ میں گاڑیاں اپنی اپنی منزل کو آتے جاتے دیکھتے ہوئے پوٹھوہار کا علاقہ آیا۔ سطح مرتفع پوٹھوہار۔ بھُربھری مٹی کی پہاڑیاں، کٹی ہوئی جلی ہوئی مٹی، اوپر نیچے ہوتے راستے، اردگرد جھاڑیاں اور اُن میں کِھلے کچھ جنگلی پھول۔

    شہر گزرتے رہے۔ چھُٹی کے دن سوئے ہوئے تھکے ہوئے شہر۔ پنڈی آیا تو گاڑی پیر ودھائی جا رُکی۔ یہیں سے مجھے گاڑی بدلنی تھی۔ یکم مئی تھی۔ یومِ مزدور و محنت کش، غریبوں کا دن۔

    ہزارہ آیا۔۔۔ ویسا ہی رش جیسا عام دنوں میں ہوتا ہے۔ دوڑ بھاگ میں مصروف چِلاتے لوگ، بے ہنگم ٹریفک میں پھنسی گاڑیاں اور رنگین شیشوں کی عمارتیں جن میں سبز اور نیلے شیشوں کا استعمال جا بجا کیا گیا ہے۔

    گاڑی چکراتے ہوئے پہاڑوں پر دوڑتی رہی۔ آرمی برن ہال کالج گزرا، کاکول اکیڈمی گزری، مانسہرہ چھُوٹا، نیلی چھتوں کا شہر بالاکوٹ بھی گزرا۔ کاغان روڈ پر دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پارس آیا۔ وہیں ایک سنگِ مرمر کی تختی پر ایک وعجیب تحریر کندہ پڑھی۔ صاحب قبر کی تعریف میں قبر کا کتبہ تھا ’’سڑک پر ڈھول بجاتے ہوئے ایکسیڈنٹ میں شہید ہو گئے‘‘۔ آنکھ مل کر دوبارہ پڑھا مگر تحریر کے الفاظ بجائے تبدیل ہونے کے مزید واضح ہو گئے۔ ہنس ہنس کر حال بُرا ہونے لگا، دریائے کنہار مجھے اُلٹا بہتا محسوس ہونے لگا ۔ بالاکوٹ سے ناران کی طرف۔۔۔۔

    گاڑی نے ناران کا پُل عبور کیا تو سامنے ویسا ہی منظر کھُلا جیسا کسی بھی پہاڑی تفریحی مقام کا ہو سکتا ہے۔ شام پھیلنے کے ساتھ ناران کی بتیاں جگمگا رہی تھیں۔ بازار میں رش تھا اور میری توقع سے کہیں زیادہ۔ ناران ویسا ہی تھا جیسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مجھے یہ اپنے ہجوم کی وجہ سے کبھی پسند نہیں رہا۔ جابجا دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ گند، سجی ہوئی دکانیں، بے ہنگم شور، اونچے قہقہے، فیشن شو یا لائف اسٹائل کی نمائش، میک اوور، شوخی، کھوکھلا پن اور مہنگے ہوٹلز۔ ناران میں جو ہوٹلز کھُلے تھے وہ سب رش کی وجہ سے بُک تھے۔

    میری منزل ناران نہیں بلکہ برف میں ڈھکی جھیل سیف الملوک تھی کہ جس کی برفیں ابھی تک نہیں پگھلی تھیں اور جیپ روڈ، برف کی وجہ سے بند تھا۔ بہت مشکل سے ناران کے ایک ہوٹل میں کمرہ ملا اور رات بسر کرنے کا سبب بنا۔

    علی الصبح میں نے چھڑی پکڑی اور جھیل سیف الملوک کی طرف چل دیا۔ راستے میں ناران بازار سے ایک کلومیٹر دور ایک چھوٹی سی بستی سے پورٹر لیا جو میرا گائیڈ بھی تھا۔ اس سے آگے برف کا راج تھا۔ میرا گائیڈ ہکلا تھا، رک رک کر بولتا۔ پہلی بار جب میں نے اسے پوچھا کہ کتنے پیسے لو گے؟ تو بولا ’’جج ج ج ج جتنے مم مرضی ددددے دینا صص صاحب‘‘۔ بس اسی لمحے اس پر پیار آ گیا اور میں نے اسے ساتھ لے لیا۔ پھر ہم دونوں برف کی جہان میں گُم ہوتے گئے اور پہاڑوں پر چڑھائی چڑھتے گئے۔

    On the way to Saif ul Malook
    On the way to Saif ul Malook

    صبح کی ہلکی روشنی برف پر پڑتی تو چمک آنکھوں کو خیرہ کرنے لگتی۔ رکتے، سانس بحال کرتے، چلتے، گرتے، اٹھتے ٹریک پر سفر ہوتا رہا۔ جھیل تک کا یہ ٹریک اتنا عمودی اور مشکل ہو گا، سوچا نہ تھا۔ چڑھائی تھی کہ ختم ہونے میں نہ آتی تھی۔ میرا گائیڈ بار بار بولنے کی کوشش کرتا ’’چچ چ چ چ چ چ چلیں صص صاحب‘‘۔ پھر مجھے عادت پڑ گئی کہ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی میں بول دیتا ’’ہاں چلو، چلتے ہیں‘‘۔ اس برف کے جہان میں، سفیدی میں، تنہائی میں۔ صرف دو ہی رنگ تھے، ایک میری جِلد کا اور ایک میرے گائیڈ کی جِلد کا کیونکہ لباس بھی دونوں کا سفید ہی تھا۔

    چار گھنٹوں کی مشقت کے بعد جھیل نے اپنی جھلک دکھائی اور یوں دکھائی کہ میں ساکت ہو کر رہ گیا ۔ سفیدی تھی ہر سُو، سامنے برف کا میدان تھا۔ جھیل تو کہیں برفوں کی تہہ کے نیچے تھی۔ پردہ کیئے ہوئے۔ عقب میں اور اردگرد جو پہاڑ تھے وہ بھی سفید چادر اوڑھے کھڑے تھے۔ ایک ہوٹل کی سُرخ چھت واحد رنگ سارے منظر میں تھا۔ باقی سارا جہان برف کے نیچے تھا۔ سیف الملوک کے برفانی میدان کو دیکھتے دیکھتے اس کے کناروں پر پہنچا اور وہیں اپنا کیمپ لگا کر لیٹ گیا۔ تھکاوٹ سے بُرا حال تھا اور دھوپ کی شدت ایسی تھی کہ برف سے بھی تپش نکلتی جو جِلد کو جلانے لگتی۔ سانس بھی کم کم آتا تھا۔ کیمپ میں لیٹ کر وقت گزارتا رہا کہ مجھے جھیل کو شام کی ہلکی روشنی میں دیکھنا تھا اور ہو سکے تو پورے چاند کی رات میں ایک جھلک دیکھنا چاہتا تھا۔

    گائیڈ ہر گھنٹے بعد آ کر بولنے کی کوشش کرتا ’’چچ چچ چ چ چ چ چلیں صاحب‘‘ تو میں جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی آنکھیں موندے کیمپ میں پڑے کہہ دیتا ہاں چلتے ہیں کچھ دیر بعد۔۔۔

    سارا دن اسی طرح گزار دیا۔ گائیڈ بار بار آ کر کہتا رہا ’’چچ چ چ چ‘‘ اور میرا جواب فورا یہی ہوتا ہاں کچھ دیر بعد تو وہ پھر سے معصوم سی شکل بنا کر بیٹھ جاتا۔ ایک بار کیمپ سے نکل کر سارے منظر کا پینوراما لیا تو گائیڈ بولا کہ فلم بناتے ہو صاحب، میں نے جواب میں نہ جانے کیوں اتنی تفصیل میں بتا دیا کہ نہیں اسے پینوراما کہتے ہیں اور وہ سُن کر پھر سے چپ کر کے دیکھنے لگا۔ شام ڈھلنے لگی اور میرے ہمسفر کی چچ چچ چچ چ چ چ چ تیز ہونے لگی۔ ایک بار مجھے لگا کہ اب کی بار اس کا جملہ پورا تو ہونے دوں کہیں یہ صبح سے اب تک تنگ آ کر مجھے ’’چ‘‘ سے کچھ اور تو نہیں کہنا چاہ رہا! جانے کتنے ہی معیوب لفظ ’’چ‘‘ سے شروع ہونے والے میرے ذہن سے گزرنے لگے چنانچہ دو منٹ صبر کر کے اس کی پوری چچ چ سُنی تو وہی تھی کہ ’’چلیں صاحب‘‘۔ مجھے بے ساختہ ہنسی آ گئی۔ میں کھُل کر ہنسنے لگا تو وہ بھی ہنس دیا۔ ہنسی رُکی تو میں نے اسے کہا کہ تم نے اب سے ’’چ‘‘ سے شروع ہونے والا کوئی لفظ نہیں بولنا بس۔ اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

    شام ڈھلی اور چاند نکلا۔ جھیل مکمل منجمد تھی۔ سیف الملوک پر چاند ٹِکا تھا، پورا چاند۔ چاندنی نے برفپوش پہاڑوں اور جھیل جو کہ ایک کُھلا برفانی میدان ہی لگتی تھی کو ایسے اُجال دیا تھا کہ منظر کی چکا چوند آنکھوں کو خیره کرتی تھی۔ میرے پیروں کے نیچے سے لے کر چاند تک بس سفیدی ہی سفیدی تھی۔ ایک جادوئی داستان۔ بدر الجمال کی کتھا میری آنکھوں کے سامنے جاری تھی مگر پری ناپید تھی صرف دیو تھا۔ چٹکی ہوئی چاندنی میں ستارے دھیمے دھیمے ٹمٹما رہے تھے۔ احمد مشتاق کا شعر ذہن میں مسلسل گونج رہا تھا؛

    چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے
    مجھ سے اچھے تو شبِ غم کے مقدر نکلے

    سیف الملوک کی برفانی ٹھنڈی اور اداس تنہائی میں دو آدم زادوں کے علاوه کوئی نہ تھا۔ میں منجمد جھیل دیکھتا، چاند دیکھتا یا اسے دیکھتا جو پسِ منظر میں رہتا منظر سنوارتا، نکھارتا، بناتا اور مٹاتا رہتا ہے۔ ایک دھیان تو اپنی آوارگی کی طرف بھی جاتا رہا…

    میرے گائیڈ کی چ چ چچ چچ کی فریکوئنسی بھی تیز ہو چُکی تھی ۔ اب کی بار وہ ’’چ‘‘ کے ساتھ چلیں نہیں بلکہ ’’چیتا‘‘ کہتا رہا تھا۔ اسے ڈر تھا یا مجھے ڈرا کر واپس لے جانا چاہتا تھا کہ یہاں چیتا بھی آ سکتا ہے اور میں کسی بھی ڈر کے زیرِ اثر نہیں آ رہا تھا۔ میں اپنے آپ میں نہیں تھ ۔ شعور سے مُبرا ہو کر میرا جسم کہیں اور تھا اور میں کہیں اور جہاں ڈر، وہم اور شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی، مگر پھر دھیان ٹوٹا تو میں نے اسے کہا ’’چلو اب چلیں سردی بڑھنے لگی ہے‘‘۔ اس کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی ۔ چلنے لگے تو شرارتاً رُک کر بولا ’’ر ر ر رر رکتے ہیں نن ن نن ناں صاحب‘‘۔ اور ایسا کہتے ہی اس کا قہقہہ خاموش فضا کو تار تار کرتا ملکہ پربت کی چوٹی کے اوپر سے گزر گیا۔۔۔ دیر تک ہنسی تھی جو ٹھہر گئی تھی۔۔۔ وادی میں گونجتی تھی۔۔۔

    On the way to Saif ul Malook
    On the way to Saif ul Malook

    واپسی کا سفر اختیار کیا تو ایک مصیبت آن کھڑی ہوئی۔ چڑھائی تو جیسے تیسے چڑھ آیا تھا اب ان عمودی پہاڑی ڈھلوانوں پر انسان اُترے کیسے؟ ۔ پاؤں برف پر پھسلتے تھے۔ چاندنی رات میں ہر جگہ دن کی مانند روشن تو تھی مگر ڈر اب سرایت کرنے لگا اور مجھے اب سمجھ آیا کہ سیانے ٹھیک کہتے تھے کہ چڑھنا مشکل کام نہیں چڑھ کر اُترنا مشکل ہوتا ہے!

    جون ایلیا کا شعر یاد آنے لگا؛

    میں اس دیوار پر چڑھ تو گیا تھا
    اُتارے کون اب دیوار پر سے

    مجھے بھی ان برفانی دیواروں سے اب کون اُتارتا۔۔۔ گائیڈ تو مقامی تھا وہ پھسلتا اور برف پر سلائیڈ بناتا جاتا۔ پھر نیچے پہنچ کر مجھے اشارے کرنے لگتا کہ میں بھی سلائیڈ لیتا نیچے آؤں۔ پہلے پہل تو میں شرمایا بھی، گھبرایا بھی لیکن اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات بتاتے تھے کہ اسے مجھ پر غصہ ہے کہ میں سلائیڈ بھی سوچ سمجھ کر وقت لگا کر لیتا ہوں۔۔۔ ایک بار اس نے اونچی اونچی ’’پین پین پین پین پین‘‘ کہنا شروع کیا تو میں ڈر کر رُک گیا۔ مجھے لگا جیسے مجھے تنگ آ کر گالی دینے والا ہے۔ ایک منٹ کے ’’پین پین پین‘‘ کے بعد اچانک پورا جملہ بول پڑا ’’پینوراما نہیں لو گے اس جگہ کا صاحب‘‘ اور ساتھ مسکرانے لگا۔۔۔ ہنسی پھر سے گونجنے لگی کہ میں بھی کیا سوچنے لگا تھا اور اسے پینوراما کا بتایا ہی کیوں؟ یا پھر ’’چ‘‘ کہنے سے منع کیا تھا تو ’’پین‘‘ کہنے سے بھی ٹوک دیتا۔۔۔

    دو گھنٹے سلائیڈ لیتے لیتے سفر طے کیا۔۔۔ واپس پہنچنے تک میں آگے پیچھے، اوپر نیچے ہر جانب سے سُن ہو چکا تھا۔۔۔ برف پتہ نہیں کہاں کہاں گھُس چکی تھی۔ مجھے اپنے اعضا کا احساس نہیں ہو پا رہا تھا۔ یقین مانیں نیچے اُتر کر جب میں سُستانے کو ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھا تو مجھے لگا جیسے میں بیٹھا نہیں ہَوا میں معلق ہوں۔۔۔ سُن پڑ چکا تھا سب کچھ ۔۔۔ اور پھر اپنی حالت پر قہقہہ لگانے لگا۔۔۔ آواز دور تک گونجتی گئی۔۔

    بستی میں پہنچے تک رات کے گیارہ بج چُکے تھے۔ میرے گائیڈ کی اماں پریشان تھی اور لالٹین لیے دروازے پر کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی ۔ وہ بھی ماں سے مل کر ایسا ہو گیا جیسے دودھ پیتا معصوم بچہ ہو۔

    اس کی ماں کی پریشانی مجھ سے دیکھی نہ جا سکی۔۔۔ وہ اسے گلے لگا کر چومنے لگی تو میری آنکھوں میں نمی در آئی۔ وہاں سے رخصت ہو کر نکلا تو اکیلا رہ گیا تھا۔ گائیڈ کی ماں اس کی منتظر تھی، اپنا کون تھا؟ مجھے اپنی ماں کی یاد آئی۔ جھیل سیف الملوک سے بہہ کر آتے نالے کے ساتھ ساتھ چلتے ایک سرد آہ نکلی اور پانی کے کناروں پر بہتی نمزدہ ہَوا میں جذب ہو گئی۔ آنکھیں جلنے لگیں تھی۔ برف کے سفر اور تھکن کا اثر ہو گا شاید۔۔۔ واپسی کے سفر کی اداسی شاملِ حال بھی ہونے لگی تھی اور گزر چُکے اپنوں کی یاد بھی ستانے لگی تھی۔ ایسا لگنے لگا جیسے صبح سے اب تک صرف ایک ہی کیفیت رہی ہو۔۔۔ اداسی۔۔۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply