سلطان خان، شطرنج کے پہلے ایشیائی گرینڈ ماسٹر

سلطان خان، شطرنج کے پہلے ایشیائی گرینڈ ماسٹر

    by -
    0 0
    Image Source: https://www.linkedin.com/pulse/tragic-tale-mir-sultan-khan-asias-first-chess-giannakoulopoulos

    آسٹرین شطرنج کا چیمپین کموچ اس وقت غصے میں تھا۔ وہ شطرنج کے ایک عالمی مقابلے میں اپنے مخالف کھلاڑی سے تین مرتبہ پوچھ چکا تھا کہ کیا وہ یہ گیم ڈرا کرنا چاہتا ہے، لیکن مخالف کھلاڑی ہر مرتبہ اس کی بات سن کر مسکرا دیتا۔ کموچ چلایا ’آخر تمہارا یہ چیمپین کون سی زبان سمجھتا ہے؟‘ ’صرف شطرنج کی‘ میں نے جواب دیا۔ اور پھر کچھ چالوں کے بعد آسٹرین چیمپین کموچ کو ہار تسلیم کرنی پڑی۔

    (ولیم ونٹر۔شطرنج کے عظیم برطانوی کھلاڑی)

    کموچ کو ہرانے والے شخص میر سلطان خان (66-1905) تھے جو پنجابی کے علاوہ کسی اور زبان کو مشکل ہی سے سمجھتے تھے۔ میر سلطان خان کاتعلق سرگودھا کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا۔وہ مہاراجہ ملک سر عمر حیات خان کے معمولی ملازم تھے جو ان کی حویلی میں چھوٹے موٹے کام کرتے تھے۔ میر سلطان خان نے1928 میں ہندوستانی شطرنج کی چمپین شپ جیتی اور 1929 میں سر عمر حیات خان انہیں اپنے ساتھ انگلینڈ لے آئے۔ انہوں نے انگلینڈ میں چار سال بتائے اور اس عرصے میں انہوں نے دنیا کے عظیم کھلاڑیوں کو ہرا کر سب کو حیران کر دیا۔ بعد میں وہ اپنے ’مالک‘ کے ساتھ واپس ہندوستان لوٹ آئے اور شطرنج کے کھیل کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔ میر سلطان خان نہ صرف انگریزی زبان سےناواقف تھے بلکہ وہ شطرنج کے عالمی قوانین بھی نہیں جانتے تھے۔ اس وقت ہندوستان میں شطرنج مختلف طریقے سے کھیلی جاتی تھی ۔ انگریزی سے عدم آگاہی کی وجہ سے انہیں شطرنج کے عالمی قوانین سیکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے مخالفین بتاتے ہیں کہ وہ کبھی بھی چیس نوٹیشن نہیں سیکھ پائے۔

    میر سلطان کوانگلستان کا موسم بھی شدید ناپسند تھا۔ برطانیہ میں قیام کے دوران وہ یخ بستہ موسم کے باعث زکام اور بخار وغیرہ میں مبتلا رہتے تھے۔ جب وہ مقابلوں میں شریک ہونے کے لیےآتے توانہوں نے خود کو سردی سے بچانے کے لئے گلے میں بڑا سا مفلر پہنا ہوتا تھا۔ وہ اکثر سر پر بڑی سی پنجابی پگڑی پہن کر بھی شطرنج کے عالمی مقابلوں میں شریک ہوتے تھے۔ عالمی شطرنج میں سلطان خان کی کامیابیاں آج بھی کسی معمے سے کم نہیں۔ انہوں نےیورپ میں رہتے ہوئے دو مرتبہ برٹش چیس چیمپین شپ جیتی۔ عالمی چیس چیمپینز الیگذینڈر الیکائن اور کیپا بلانکا کا شمار آج بھی دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ میر سلطان نے ان دونوں کو ہرا سب کو حیران کر دیا۔ ان حیرت انگیز فتوحات کے باوجود سلطان خان کی عجز وانکساری میں کوئی کمی نہیں آئی۔

    ریوبن فائن امریکی گرینڈ ماسٹر اور ماہر نفسیات تھا۔ وہ اپنی ایک کتاب میں میر سلطان خان سے ملاقات کاواقعہ بڑے دلچسپ انداز میں بیان کرتا ہے۔ ’’جب ہم مہاراجہ کے گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے مسکرا کر ہمارا استقبال کیا اور کہا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ میں آپ سے ملاقات کر رہا ہوں ورنہ میں یہ وقت اپنے گرے ہاؤنڈز (کتوں) کے ساتھ گزارنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔ پھر مہاراجہ نے ہمیں ایک مختصر سا کتابچہ پیش کیا جس میں ان کی زندگی اور کارناموں کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔ اب تک ہمیں اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ وہ مہاراجہ بن کر پیدا ہوا ہے۔ اسی اثنا میں میر سلطان خان نمودار ہوا جو ہمارا اصلی میزبان تھا۔ مہاراجہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کر رہا تھا جیسا غلاموں کے ساتھ برتا جاتا ہے۔ اور ہم ایک عجیب صورتحال کا سامنا کر رہے تھے جس میں شطرنج کا گرینڈ ماسٹر ہمارے لیے بیرے کے طور پر کام کر رہا تھا‘‘۔ 

    ریوبن فائن شاید درست کہتے تھے کہ مہاراجہ بن کر پیدا ہونا عمرحیات صاحب کا بڑا کارنامہ تھا لیکن یہ ان کا واحد کارنامہ نہیں تھا۔ انہوں نے سلطان خان کو شطرنج کے بین الاقوامی منظر نامے پر روشناس کروایا اور اپنی ایک اور ملازمہ فاطمہ کو بھی خواتین کی شطرنج کے عالمی مقابلوں میں شریک ہونے کا موقع دیا۔ فاطمہ 1933 میں برٹش ویمن چیس چیمپین شپ کھیلیں جسے انہوں نے با آسانی جیت لیا۔ فاطمہ ، سلطان خان کے بارے میں کہتی ہیں کہ جب وہ برطانیہ سے واپس لوٹے تو بہت خوش تھے۔ ان کے نزدیک انگلینڈ کے موسم کی قید سے رہائی مل گئی۔

    سلطان خان کے بڑے بیٹے بتاتے ہیں کہ ان کے والد نے نہ صرف خود شطرنج کو خیر باد کہہ دیا تھا بلکہ وہ اپنے بچوں کو بھی شطرنج سے دور رکھتے تھے۔ وہ انہیں ہدایت کرتے کہ شطرنج کھیلنے کی بجائے انہیں کوئی اچھا کام کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں تو خیر کرکٹ کا کھیل کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ہی ہیرو مانا جاتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ شطرنج کے عالمی مقابلوں کو جیتنے کے باوجود ورلڈ چیس فیڈریشن نے انہیں گرینڈ ماسٹر کے خطاب سے نہیں نوازا، تاہم ان کے ہم عصر عظیم کھلاڑی انہیں ایشاء کا پہلا گرینڈ ماسٹر تسلیم کرتے ہیں۔

    NO COMMENTS

    Leave a Reply