شندور سے کالاش تک

شندور سے کالاش تک

    by -
    0 32

    درہ شندور کی چڑھائیاں ختم ہونے تک رات سُرمئی آنچل کی طرح پھیل چُکی تھی۔ نومبر کا آغاز تھا۔ شدید سردی نے لپیٹ میں لے لیا۔

    لنگر کے قریب— سید مہدی بخاری

    فرانسیسی ماہرِ طبیعیات پاسکل نے کہا تھا کہ قدرت ایک لامحدود دائرہ ہے جس کا مرکز ہر جگہ ہے اور محیط کہیں نہیں ہے۔

    ڈپریشن دور کرنے کا، اپنے ماحول سے گھبرا کے فرار ہونے کا ایک طریقہ ہے سفر۔ دور دراز کے پہاڑوں کا سفر جہاں آج کے انسان نُما کوئی چیز نہ ہو۔ برف ہو، پہاڑ ہوں، درخت ہوں، اور فضا میں نم زدہ پتوں کی خوشبو پھیلی ہو۔ ایک اخیر قسم کی تنہائی ہو جہاں سانس لیتے کانوں کو خراشیں سنائی دیں۔ پھر ایک وادی ہو جو شام ڈھلے برقی قمقموں کے روشن ہونے سے ٹمٹمانے لگے۔ شام ڈھلے اُفق پر رنگ بکھرے ہوں یا دُھند زدہ سفید منظر ہو، جب دل ہی بہلانا ہے اور وحشت کو پُرسہ دینا ہے تو رنگ کیا اور بے رنگا کیا۔

    ٹاپ سے بیٹھ کر وادی میں گزرتی ٹریفک، ان گاڑیوں میں انسان کی نقل و حمل، پوپلر کے درختوں سے سیٹی مار کر گزرتی ٹھنڈی یخ ہوائیں۔ لاوے کی طرح اُبلتا دماغ، اور ایک لمبی سیر پہاڑی راستے پر: فرار ہونے کا اصل نسخہ۔ لوٹ کے واپس آنے پر اپنے ماحول کو، گرد و پیش کو، گھر کو، نوکری کو، سارے معاشرے کو انسان نئی اُمید سے دیکھے کہ شاید اب کی بار کوئی تبدیلی آ جائے۔ اسی اُمید پر تو جیے جاتے ہیں۔ ورنہ پھر سے فرار ہونے کا آسان حل ایک سفر تو ہے ناں۔ بھاگ مسافر بھاگ۔ پہاڑوں کی طرف، جن کے دامن کشادہ ہیں۔ جن پر برف نے سفید چادر بچھا کر ان کی کالی ہولناکی کو ڈھانپ دیا ہے۔ جہاں اپنی ہی آواز اِیکو کرتی ہے۔ چیڑ کے درختوں میں کوا بھی بولے تو کوئل جیسا محسوس ہوتا ہے۔

    شندور جھیل پر پیراگلائیڈنگ — سید مہدی بخاری
    شندور جھیل پر پیراگلائیڈنگ — سید مہدی بخاری

    قدرت کو دیکھنے اور اپنے اندر سمونے کی چاہ نے کئی سفر کروائے مگر غذر سے گزرتے ہوئے مجھے لگنے لگا تھا کہ قدرت کا محیط یہیں کہیں ہے۔ سفر کی عادت نے مجھے اندرون و بیرونِ ملک آج تک ایسے ایسے مناظر دکھائے، کہ جن کو یاد کروں تو دل تیز دھڑکنے لگتا ہے۔ دماغ کے پردے پر رنگوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ سانسوں میں خوشبو مہکنے لگتی ہے۔ اس سارے بیتے منظروں میں سب سے شوخ رنگے منظر غذر کے ہوتے ہیں۔ مجھے ہمالیہ کے دامن میں بسے دیوسائی کے میدان میں پھیلی ایک انجان مہک، غذر کی فضا میں معطر کستوری سی، اور بارش کے پہلے پہلے قطروں سے اُٹھنے والی گیلی مٹی کی خوشبو سے عشق ہے۔ ان مقامات سے گزرتے ہوئے گہرے سانس بھرنے کی عادت ہے۔ وادی پھنڈر کی دلکشی کو میں نے ایک بارش زدہ گیلی دوپہر میں چھوڑ دیا۔ میری منزل غذر کے بستیوں ٹیرو، گلاغمولی اور لنگر سے ہوتے ہوئے درہ شندور اور اس کے پار چترال میں بسی کالاش کی وادیاں تھیں۔

    راستے میں بارش تھمی تو کافی دیر کو اپنے ہمسفر دریائے غذر کے کناروں پر فوٹوگرافی کرنے میں مشغول رہا۔ جب ٹیرو آیا تو مغرب کا وقت ہو رہا تھا اور روشنی اندھیرے میں گھُلتی جاتی تھی۔ پرندوں نے درختوں پر رین بسیرے ڈھونڈنا شروع کر دیے تھے۔ رات کا سکوت چھا جانے سے قبل بستی میں رونق کا دور دورہ تھا۔ کھیتوں سے واپس لوٹتے لوگ، سڑک پر کھیلتے بچے، باتوں میں مصروف نوجوان سرمئی آسمان تلے اب آہستہ آہستہ اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے۔ دریا کے بہاؤ میں بھی ٹھہراؤ آ چکا تھا۔ سارا دن پانی اُچھل اُچھل کر تھک چکے تھے شاید۔

    ٹیرو میں شام اُتر رہی تھی۔ غذر کی آبادیوں پر سائے منڈلانے لگے تھے۔ ڈوبتے سورج کی نارنجی روشنی سڑک کنارے دونوں اطراف کھڑے پوپلر کے لمبے درختوں کے پیلے پڑتے پتوں کو مزید بھڑکانے لگی۔ پل بھر کو یوں لگنے لگا جیسے ماچس کی تیلیاں قطار اندر قطار جل رہی ہوں۔ دور درہ شندور سے ملحقہ چوٹیوں پر ابھی سورج آخری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ ہندوکش کی چوٹیاں تپی ہوئی دھات جیسی سُرخ نظر پڑتی تھیں۔

    شندور کی سمت سفر کرتے میں سوچ رہا تھا کہ گلگت بلتستان کی سرحد کے پاس پیچھے چھُوٹ جانے والے کیسے کیسے لوگ تھے۔ کیا کیا منظر تھے جو میں دیکھتا آ رہا تھا، جو اب گُل ہو چکے تھے۔ گلگت بلتستان کی حدود ختم ہو رہی تھی۔ کبھی کبھی شام بھی یوں ڈھلتی ہے کہ دل دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے ایسے لمحوں میں یادوں کا بادباں کھُل جائے تو انسان مٹی کا بُت بنا ایک نقطے پر آنکھیں مرکوز کیے رہ جاتا ہے۔

    ٹیرو گزرا تو چھوٹی سی بستی گلاغمولی راستے میں آئی۔ بستی میں پنجے پھیلائے اُترتی شام کی انتر ہوُت اداسی پھیلی تھی۔ بچے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ میری نظر گلاغمولی کے گورنمنٹ پرائمری اسکول کی عمارت پر پڑی تو مجھے بیتے سال کی وہ گھڑیاں یاد آئیں جب میں نے اس اسکول کے اندر قدم رکھا تھا۔ ہنزہ میں موسمِ بہار شروع ہو چکا تھا۔ چیری کے پھول ہر طرف کھِلے تھے۔ میں اپریل کے وسط میں ہنزہ سے ہوتا غذر آ پہنچا تھا۔ میرا ارادہ درہ شندور تک جانے کا تھا مگر یہاں ابھی برفیں نہیں پگھلیں تھیں۔

    چلتے چلتے راہ میں یہ اسکول نظر آیا۔ سردی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی، اور اردگرد کے برف پوش پہاڑوں سے ٹکرا کر ہوائیں وادی کو یخ زدہ کرتی تھیں۔ اسکول کے صحن میں چھوٹے چھوٹے بچے پڑھنے میں مشغول تھے۔ میں نے اسکول کے اندر قدم رکھا اور چند تصویریں لے کر جب اسکول اور بچوں کی حالت پر غور کیا تو دل پسیج گیا۔ اسکول کی دو خواتین اساتذہ نے مجھے میڈیا کا نمائندہ سمجھتے ہوئے اپنی، بچوں اور اسکول کی حالتِ زار سنائی بھی دکھائی بھی۔

    یہ غریب کسانوں کے بچے تھے۔ سردی میں بھی ان کے پاؤں میں ڈھنگ کی جوتی تھی نہ تن پر گرم کپڑے۔ کئیوں کے پاس تو پہننے کو سویٹر تک نہیں تھے مگر علم کی لگن سے سرشار یہ بچے اور ان کے والدین کے حوصلوں کو سلام ہے کہ جس دن میں ٹھٹھر رہا تھا، اس دن بنا گرم جوتوں اور کپڑوں کے یہ ننھے طالبِ علم چہرے پر مُسکان سجائے پڑھنے میں مشغول تھے۔ اسکول کے صحن میں پاکستان کا جھنڈا لگا تھا۔ چاند تارا ہوا میں لہرا رہا تھا اور فرشتے زمین پر گِیان حاصل کر رہے تھے۔

    ایک ٹیچر کے کہنے پر بچوں نے قومی ترانہ اونچی پڑھنا شروع کیا۔ میری نظر ایک بچی پر ٹکی رہی جس کے چہرے پر ایسی معصومیت تھی اور نیلی آنکھوں میں ایسی شرم کہ اس سے نظر ہٹائے نہ ہٹتی تھی۔ قومی ترانہ پڑھتے پڑھتے وہ بچی سب بچوں سے اونچا اچانک بولی “کشورِ حسین شاد باد” تو باقی بچے ترانہ چھوڑ کر کھِلکھِلا کر ہنسنے لگے۔ ان نامساعد حالات اور غربت میں ان بچوں کو علم کی شمع جلائے مُسکراتا دیکھ کر دل سوڈے کی بوتل جیسا کھُل گیا تھا۔ سوڈا تیزی سے اوپر کو چڑھنے لگا۔ اس سے پہلے کے آنکھوں کے بند سیلاب سے ٹوٹ جاتے میں نے دھیان بٹانے کو پہاڑوں کی سمت کیمرا کر کے دھندلے ویوفائنڈر سے تصویر لے لی۔

    اسکول سے نکل کر اپنی راہ لیتے سارا راستہ میرے کانوں میں اس کا “کشورِ حسین شاد باد” گونجتا رہا۔ وہی نیلی آنکھوں والی بچی کہ جس کے تن پر گرم کپڑے نہیں تھے مگر چہرے پر گرمجوشی اور آنکھوں میں تمازت تھی۔ جس دن میں اسکول کے بچوں کے لیے کچھ تحائف لے کر کچھ ماہ بعد واپس وہاں پہنچا، اس دن وہ نیلی آنکھوں والی بچی اسکول نہیں آئی تھی۔ مجھے اس کا نام پتہ تو معلوم نہیں تھا، اس لیے میرے منہ سے نکلا: “وہ کشورِ حسین شاد باد کدھر گئی؟”۔

    پھیلتی شام کے دھندلکے میں اسکول گذرا۔ گلاغمولی کی بستی پیچھے چھوٹ گئی۔ جیپ آگے بڑھتی گئی۔ لنگر کے قریب سڑک نے موڑ کاٹا تو بہت نیچے دریائے غذر کھُلی ہوئی وادی میں پھیلا تاریک سا نظر آیا۔ اسی مقام سے میں نے سردیوں میں جب اسی نظارے کو دیکھا تھا تو میرے منہ سے اچانک نکلا تھا “یاک سرائے”۔ وادی میں دریائے غذر کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ سینکڑوں یاک چر رہے تھے۔ پہاڑ برف سے ڈھکے تھے اور دور سے یاک متحرک نقطے لگتے تھے۔ اس دن بھی وادی میں خاموشی گونج رہی تھی اور آج بھی پھیلتی تاریکی میں وادی گہری چُپ میں تھی۔ لنگر سے گزرتے ایک پہاڑی نالے کا پُل عبور کیا تو نیچے پانیوں میں شفق کی سُرخی اُتر آئی تھی۔

    وادیء ایون — سید مہدی بخاری
    وادیء ایون — سید مہدی بخاری

    چوٹیوں سے دھوپ اُتری تو شام کے دھندلکے میں چاند پر نظر پڑی۔ چاند بھی کیسا پورا چاند۔ چکور اور مسافر کے لیے ایسا چاند مرگ آثار کشش رکھتا ہے۔ خانہ بدوشوں کا ایک چھوٹا سا قافلہ پاس سے گزرا، اور مرد نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ میں اس قافلے کو تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ اندھیرے میں گُم نہیں ہو گیا۔ درہ شندور قریب آتا جا رہا تھا، اور کچھ دیر میں درے کی چڑھائیاں شروع ہونے والی تھیں۔ سردی میں اضافہ ہونے لگا۔ پانیوں کی آواز کہیں پیچھے رہ گئی۔ جیپ کی ہیڈ لائیٹس جلنے لگیں۔ انشاء کی غزل اسپیکروں پر گونجی

    چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے؟

    چاند کی خاطر ضد نہیں کرتے اے میرے اچھے انشأ چاند

    درہ شندور کی چڑھائیاں ختم ہونے تک رات سُرمئی آنچل کی طرح پھیل چُکی تھی۔ نومبر کا آغاز تھا۔ شدید سردی نے لپیٹ میں لے لیا۔ شندور پر واقع فوجی چوکیوں میں مکمل تاریکی چھائی تھی۔ ان کے سامنے پہاڑی ڈھلوان پر اکلوتا ایک کمرے کا ہوٹل ہے جو نیٹکو بسوں کے مسافروں کا اسٹاپ ہے، جدھر مسافر کچھ دیر رُک کر چائے پیتے اور پھر بس میں بیٹھ کر اپنی منزل کی سمت چل پڑتے ہیں۔ گندے سے ہوٹل کا بوڑھا مالک لانگ کوٹ اور مفلر سے چہرہ لپیٹ کر باہر نکلا تو مجھے ہالی وڈ کا ڈراؤنا فلمی کردار لگا۔

    کمرے کے اندر چولہا گرم تھا جس کی وجہ سے کمرے کے اندر کا ماحول انتہائی آرام دہ لگا۔ شب بسری کو وہیں ٹھکانہ بنا لیا۔ ساری رات بوڑھا اپنے قصے سناتا رہا۔ سنتے سنتے مجھے کب نیند آ گئی پتہ نہیں چلا۔ صبح صادق کو آنکھ کھُلی تو میں شندور جھیل کی فوٹوگرافی کرنے باہر نکل گیا۔ درجہ حرارت منفی تھا۔ اُفق پر ہلکی پو پھٹنے لگی تھی۔ نیلی سی روشنی چہار سُو پھیلی تھی۔ سردی نے مجھے جکڑ لیا تھا۔ چلتے چلتے شندور کے پولو گراؤنڈ سے گزرا تو مجھے وہ دن یاد آگئے جب شندور پولو فیسٹیول دیکھنے یہاں آیا کرتا تھا۔

    شندور پولو فیسٹول ہر سال سات سے نو جولائی تک منعقد ہوتا ہے۔ 12,200 فٹ کی بلندی پر واقع شندور دنیا کی سب سے بلند پولو گراؤنڈ ہے۔ یہاں آکسیجن کی کمی سے سانس بھی ٹھیک نہیں آتا، مگر گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں نے اس ویرانے میں دیدہ زیب کھیل رچا رکھا ہے۔ ہر سال گلگت اور چترال کی پولو ٹیموں کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوتا ہے اور جیتنے والے پورا ہفتہ فتح کا جشن مناتے رہتے ہیں۔

    پولو کے لیے گھوڑوں کو خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ عام گھوڑا اتنی بلندی پر پولو نہیں کھیل سکتا۔ یہ خاص نسل کے تربیت یافتہ گھوڑے بھی کئی بار کھیلتے کھیلتے حرکتِ قلب بند ہو جانے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ جس دن پہلی بار میں شندور پولو میلہ دیکھنے پہنچا سارے میدان میں دُھول بھری تھی۔ مٹی کی غبار نے آسمان تک کو دھندلا دیا تھا۔ میلے پر درہ شندور بالکل روایتی میلوں جیسا لگ رہا تھا۔ جا بجا ٹینٹ لگے تھے جن میں لوگ رہائش پذیر تھے، قدم قدم پر دکانیں سجی تھیں، جنریٹروں کا شور تھا اور لوگوں کی چہل پہل۔ ہنسی قہقہے فضا میں بکھرے تھے اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں، ساری رات رونق لگی رہتی۔

    گلگت بلتستان اور چترال کے کونے کونے سے لوگ میلہ دیکھنے پہنچتے ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے یہ وادیاں سرشار ہیں، ویرانوں میں رونق ہے، جنہوں نے برفانی ہواؤں میں جینا سیکھا ہے اور باقی دنیا سے کٹ کر رہنے کا ہُنر جانا ہے۔ گلگت بلتستان کی سرزمینوں میں، کہیں سنگلاخ پہاڑوں میں، کہیں خوبانیوں اور سیب کے باغوں میں ان ہی لوگوں کے ہونے سے زندگی ہے۔ ان ہی سے زندگی کی دشواریوں اور پریشانیوں نے ہار مانی ہے۔ ان کی صدیاں یوں گزریں کہ نہ تن پر اچھا لباس نہ کھانے کو اچھا کھانا، نہ پیروں میں جوتے نہ تعلیم نہ علاج۔ ایسی سختیوں میں بھی یہی لوگ تھے جو خدا کا نام لے کر گھوڑوں کی پشت پر بیٹھتے تھے اور پولو کھیلتے تھے۔

    پولو دیکھنے والے یہ سخت جان لوگ داد تحسین کے ایسے نعرے بلند کرتے کہ کھلاڑیوں کے سر پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی زیادہ بلند ہو جایا کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ حالات میں تبدیلی تو آئی، تعلیم عام ہوئی، شرح خواندگی میں زبردست اضافہ ہُوا، لوگوں کا معیارِ زندگی قدرے بہتر ہُوا، شعور اس معاشرے میں اُجاگر ہُوا، مگر آج بھی یہ لوگ اپنے آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ ویسے میں اُن کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف وہی نہیں ساری پاکستانی عوام بھی اپنے آئینی حقوق سے محروم ہے۔ کاغذوں میں لکھے ہوئے مقدس صحیفے یعنی آئین پاکستان کا نفاذ اہلِ وطن پر آج تک اپنی اصل روح کے مطابق نہیں ہُوا۔ اب اس پولو گراؤنڈ پر ویرانی چھائی تھی۔ ایک مدھم سی نیلی روشنی آسمان پر پھیلی تھی۔ پولو گراؤنڈ کو نیلاہٹ اوڑھے سُنسان دیکھ کر دل بوجھل ہونے لگا۔ وہ مقامات جو رونق میں انسان نے دیکھے ہوں اُن کو ایسا ویران و سنسان دیکھ کو دل خود ہی بیٹھ جاتا ہے۔

    شندور پولو فیسٹیول — سید مہدی بخاری
    شندور پولو فیسٹیول — سید مہدی بخاری

    جب سورج نے پربت اُجالا تو کرنیں جھیل کے پانیوں پر جھلمل کرتی دِکھنے لگیں۔ پہاڑ کی اوٹ سے خورشید نے ایسے جھانکا جیسے دیکھنا چاہ رہا ہو کہ شندور جھیل کے پانی خاموش سوئے ہوئے ہیں یا لہروں میں ہلچل ہے۔ کیمرے کا شٹر گرا۔ کناروں پر جمی برف آہستہ آہستہ کرنوں کی تمازت سے پگھلنے لگی۔ شبنم کے قطرے برف کی پتلی شفاف تہہ پر ٹھہرتے، اور پھر ٹوٹ کر بہہ جاتے۔

    دھوپ کی پیلاہٹ نیلے پانیوں میں گہری اُترنے لگی۔ شندور میں صبح اُتری تو دھوپ کی پہلی کرنیں میرے چہرے پر پڑیں اور پھر بالوں پر پڑی اوس پگھلنے لگی تو نمی پلکوں کے اوپر محسوس ہونے لگی۔ صبح صادق سے میں جھیل کے کنارے کھڑا تصویریں لے رہا تھا۔ سردی کی وجہ سے چہرے اور بالوں پر اوس کے قطرے جم چکے تھے جو اب پگھل رہے تھے۔ پلکوں کو آدھ موند کر میں نے سورج کو دیکھا تو جھیل میں بیدار ہوتی لہروں نے آگے بڑھ کر اپنے یخ پانیوں سے میرے جوتے بھگو دیے۔ شندور کی ایک ٹھنڈی صبح مجھے ایک عرصے تک سلگاتی رہی، جب تک میں پھر سے واپس شندور نہیں پہنچ گیا، کسی اور سال، کسی اور موسم میں کسی اور سمت کا ارادہ لیے۔

    درہ شندور کو چھوڑا تو شدید قسم کی اُترائی شروع ہوئی۔ کانوں پر دباؤ پڑتا تو جیپ کے انجن کی آواز گندم پیسنے والی چکی جیسی بھاری سی سنائی پڑتی۔ میرا ڈرائیور مجھ سے کچھ کہتا تو کچھ پَلے نہ پڑتا، میں بس مُسکرا کے سر ہلا دیتا۔ اُترائیاں ختم ہوئیں تو سورلاسپور کی بستی نے استقبال کیا۔ بچوں نے سڑک کے کنارے حیرت زدہ ہو کر انگلیاں دانتوں میں داب لیں تو عورتوں نے گھونگھٹ نکال لیے۔ شرمیلی ہنسی نے لاسپور کی فضا کو مہکا دیا۔ بونی قصبے کے آنے تک کمر ٹوٹ چکی تھی۔ یہ کچی اور خستہ جیپ سڑک تھی جس پر قدم قدم پر شدید جھٹکے لگتے تھے۔ مستوج سے ہوتے ہوئے چترال پہنچنے تک رات ہو رہی تھی۔ میں اس سفر کی شدت سے اور سر و کمر کے درد سے نڈھال ہو چکا تھا۔ شب بسری کو چترال میں ہی ٹھکانہ ڈھونڈ لیا۔

    ہندوکش کے پہاڑوں کے دامن میں واقع چترال قیام پاکستان کے وقت ریاست چترال کے نام سے مشہور تھا۔ اور ریاست چترال ماضی میں برطانوی راج کا باقاعدہ حصہ تھی۔ یہ ریاست چترال کی ساری وادیوں اور ضلع غذر پر مشتمل تھی جن پر برطانوی ایجنٹ نگران تھا اور چترال کے مہتر ان کے نمائندے تھے۔ چترال کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جس ریاست نے سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، وہ چترال کی ریاست تھی۔ اس ریاست نے غیرمشروط پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔

    اس ریاست کا بادشاہ ہوتا تھا جسے چترال میں بولی جانے والی زبان کھوار میں میتار اور اردو میں مہتر کہا جاتا تھا۔ چترال کی آبادی 5 لاکھ کے قریب ہے۔ ضلع چترال کی سات تحصیلیں ہیں۔ چمبر کن، دارکوت، اور بروغل چترال کے مشہور درے ہیں۔ شندور، قزیدہ، چاں تار، یارخون، اور بروغل مشہور جھیلیں ہیں۔ ارکاری، لاسپور، تورکھو اہم گلیشئر جبکہ لاسپور، مولکہو، بمبوریت، لٹ کہو چترال کے مشہور دریا ہیں اور یہ تمام دریا، دریائے چترال میں جا گرتے ہیں۔ چترال کے مشرقی جانب گلگت، سوات اور یاسین کے علاقے، مغربی جانب بدخشاں، چین اور روس جبکہ جنوبی کی طرف سے درہ لواری اور دیر کے علاقے واقع ہیں۔ مستوج سے ایک ذیلی پتھریلی سڑک تاجکستان جا نکلتی ہے۔ کالاش کے نالے سے ایک راستہ افغانستان کا صوبہ نورستان کو لگتا ہے۔

    ہوٹل میں پڑے پڑے ساری رات مجھے یاد آتا رہا جب گرمیوں کی ایک صبح میں اسی مقام پر وارد ہوا تھا اور اسی بستر پر لیٹا تھا جہاں اب سرد رات میں رضائی میں دبکا بیٹھا تھا۔ وہ شدید گرمی کے دن تھے۔ میں پنجاب کی لُو سے گھبرا کر چترال چلا آیا تھا، مگر یہاں پہنچ کر بھی گرمی نے جان نہیں چھوڑی تھی البتہ اس کی شدت ویسی نہیں رہی تھی۔

    اُس صبح میری منزل کالاش کی وادی بمبوریت تھی۔ کالاش، کہ جس کو زمانہ قدیم میں کافرستان بھی کہا جاتا تھا، کے مقامی لوگوں کے عقائد و مخصوص کالے لباس کی وجہ سے اس علاقے کو کافرستان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ مقامی باشندے خود کو سکندرِ اعظم کی اولاد مانتے ہیں اور اپنا تعلق یونان سے جوڑتے ہیں۔ راہ میں وادی ایون کی جھلک بلندی سی دکھائی پڑی۔ سرسبز کھیت پہاڑی ڈھلوانوں پر لہرا رہے تھے۔

    گلاغمولی کا اسکول — سید مہدی بخاری
    گلاغمولی کا اسکول — سید مہدی بخاری

    کالاش تک کی سڑک پتھریلی ناہموار ہے جس کے ساتھ ساتھ نیچے کہیں جھاگ اڑاتا تیز بہتا پتھروں سے ٹکراتا کالاش کا دریا چلتا ہے۔ چترال سے تقریباً دو گھنٹے کا سفر کر کے بمبوریت پہنچ گیا۔ بمبوریت کالاش کا صدرمقام ہے۔ کالاش تین وادیوں بمبوریت، رومبور، اور بریر پر مشتمل ہے۔ انوکھی رسومات اور انتہائی منفرد و دلچسپ تہواروں کی سرزمین کالاش کے صدر مقام بمبوریت پہنچا تو سورج سر پر آن کھڑا تھا۔

    مکئی کے سرسبز شاداب کھیت ہر طرف پھیلے تھے جن کے کناروں پر شفاف ٹھنڈا پانی نالیوں کی صورت میں بہتا تھا۔ کالاشی لڑکیاں اور عورتیں اپنے مخصوص کالے لباس میں جھنڈ بنا کر درختوں کے سائے تلے براجمان تھیں۔ بزرگ اور جوان دکانوں کے تھڑوں پر بیٹھے تھے یا ٹہل رہے تھے۔ ٹھنڈی چھاؤں قدم قدم پر میسر آ جاتی۔ ساری وادی با رونق اور سرسبز تھی۔ بلندی سے گرتے پانی تھے جن کا مصرف نالیاں بنا کر کھیتوں کو سیراب کرنا تھا۔ ایک سکوت اور سکون سا وادی میں ٹھہرا تھا اور اردگرد کالے پہاڑ واحد دہشت کا سامان تھے۔

    یہاں بل کھاتے پانی کی نالیوں، مکئی کے لہلاتے کھیتوں، کھیتوں میں جگہ جگہ پرندوں کو ڈرانے کے لیے کھڑے لکڑی کے سیاہ لباس اوڑھے پُتلوں، اور مکئی کی سوندھی سی خوشبو بکھیرتی فضاؤں نے مجھے سحرزدہ کر دیا تھا۔ روایتی ٹوپیاں پہنی نوعمر بچیاں، دروازوں پر کھڑی بوڑھی کالاشی عورتیں، اور سیاحوں کے منتظر کالاشی مرد اَدھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے۔

    میں سارا دن بمبوریت کی گلیوں میں پیدل چلتا رہا۔ پرانی طرز تعمیر کے لکڑی کے دو اور تین منزلہ مکانات تھے، جن کی کھڑکیوں سے سیپیوں کی نیلی مالائیں پہنے اور سر پر رنگین ٹوپیاں جمائے لڑکیاں جھانکتیں، اور کھِلکھلا کر ہنسنے لگتیں۔ جب سر اُٹھا کر اُن کی طرف دیکھتا تو شرما کر کھڑکیاں بند ہو جاتیں۔ مرد دکھائی پڑتے جو کمر اور کاندھوں پر بوجھ اُٹھائے چل رہے ہوتے۔ کچھ عورتیں جانوروں کے چارے کے لیے مکئی کے بڑے بڑے پتوں کا بنڈل بنا کر سر پر اٹھائے نظر پڑتیں۔ کہیں کہیں بچے کھیل تماشے میں مصروف ملتے۔ میں جب ان سے بات کرنا چاہتا تو انہیں سمجھ نہ آتی، اور وہ آگے سے سر ہلا دیتے یا ہاتھ سے بائے بائے کا اشارہ کرنے لگتے۔ کبھی کبھی ’’ایش پاتا‘‘ بولتے۔ مجھے مقامی لڑکے نے بتایا کہ یہ آپ کی خیریت پوچھتے ہیں۔

    دن ڈھلنے لگا۔ وادی میں بہتے پانیوں کا شور مزید واضح سنائی دینے لگا۔ لوگوں کی نقل و حمل گھٹنے لگی۔ کالاش کی اس وادی میں پہنچنے تک میری جِلد سورج کی تمازت سے جھُلس چُکی تھی۔ دریا کے کنارے بیٹھے اس کے کناروں پر کھڑے پانیوں میں اپنا عکس واضح نظر آ رہا تھا۔ ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا جو مجھے پھر سے ناسٹالجیا کا شکار کر گیا۔

    اب جب میں زندگی کی بتیس خزائیں دیکھ چکا ہوں، کبھی آئینے میں اپنی صورت دیکھوں تو سر کے بالوں میں چاندی اُترنے لگی ہے۔ ان سفید ہوتے بالوں اور سیاہ پڑتی آنکھوں، جذبات کی مدھم ہوتی لَو، اور گم گشتہ رشتوں کے بیچ ایسے کھڑا ہوں جیسے مسافر آدھے سفر کے بعد کسی سرائے میں کچھ دیر کو ٹھہرے اور پھر باقی آدھے سفر کی تیاری کرنے لگے۔

    اگر انسان کی اوسط عمر ساٹھ سال ہے تو آدھی گزر چکی (بالیقیں حیات و موت کا مالک جب چاہے قصہ تمام کر دے)۔ مسافر مڑ کے دیکھنا بھی چاہے تو پیچھے راستوں پر گردباد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ دُھول مٹی کا طوفان ہے جیسے کچے راستے سے گزر کر سواری اپنے پیچھے گرد مٹی کا طوفان چھوڑ جاتی ہے۔ اسی گردباد میں کئی دوست، رشتے، ماں باپ، اور عزیز مٹی اوڑھ کر سو چکے ہیں۔

    کالاشی بچے — سید مہدی بخاری
    کالاشی بچے — سید مہدی بخاری

    زندگی کے اب تک کے سفر میں کیسے کیسے نقش مٹ چکے ہیں۔ دوست ہنگامہ روز و شب میں فکرِ معاش لیے دور جا بسے ہیں۔ اچھے سے اچھے کی تلاش میں، لائف اسٹائل کو پر تعیش بنانے کی چاہ میں دوست بچھڑتے جاتے ہیں اور میں اپنی دُھن میں اپنے شوق کے پیچھے کئی سالوں سے سرگرداں ہوں۔ نوکر پیشہ اتنا ہی سفر کرتا ہے جتنا اس کی زنجیرِ پا کرنے دیتی ہے، پر پھر بھی کوشش کی کہ ہر زنجیر توڑ کے بھاگوں چاہے کچھ دنوں کے لیے ہی سہی۔

    تصویر کشی یا مصوری ایک ثانوی فن ہے، اصل تو سفر ہے جو انسان کو شعور بخشتا ہے۔ دوسروں کے بارے جاننے کا موقع ملتا ہے۔ کئی کہانیاں سنائی دیتی ہیں، کئی رسم و رواج دکھائی دیتے ہیں۔ کئی ہمسفر ہمیشہ یاد رہتے ہیں، تو کئیوں سے انسان اسی وقت فرار ہو جاتا ہے۔ مزاج داں ملے نہ ملے سفر کا سارا مزہ دوسروں کو جاننے میں ہے۔

    بمبوریت میں ایک اور شام ڈھلنے لگی تو وہیں کہیں شاخِ سبز کی چھاؤں میں بیٹھ رہا۔ پاس چلتے پانیوں سے ٹکرا کر آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے گرمی سے جھُلسے چہرے پر پڑتے اور بالوں کو اڑاتے تو بہت سکون محسوس ہوتا۔ سفر کی شدت کے بعد اسلم انصاری کی نظم “گوتم کا آخری وعظ” دھیان میں گونجنے لگی۔

    میرے عزیزو میں جل چکا ہوں

    میرے عزیزو میں بُجھ رہا ہوں

    ميں اپنے ہونے کی آخری حد پہ آگيا ہوں

    وجود دکھ ہے، وجود کی يہ نمود دکھ ہے

    حيات دکھ ہے، ممات دکھ ہے

    يہ ساری موہوم و بے نشاں کائنات دکھ ہے

    شعور کيا ہے؟ اک التزامِ وجود ہے، اور وجود کا التزام دکھ ہے

    يہ زندہ رہنے کا، باقی رہنے کا شوق، يہ اہتمام دکھ ہے

    سکوت دکھ ہے، کہ اس کے کربِ عظيم کو کون سہہ سکا ہے

    کلام دکھ ہے، کہ کون دنيا ميں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے

    يہ ہونا دکھ ہے، نہ ہونا دکھ ہے، ثبات دکھ ہے، دوام دکھ ہے،

    میرے عزيزو تمام دکھ ہے!

    NO COMMENTS

    Leave a Reply