صدیوں کی بھوک

صدیوں کی بھوک

    by -
    0 17

    یہ قوم خوشی اور تفریح کے معنی بھی بھول چُکی ہے۔ یہاں خوشی کے دو بڑے تہوار عید کے نام سے منائے جاتے ھیں۔ چھوٹی عید کا اہتمام اتنی دھوم دھام سے کیا جاتا ھے کہ لگتا ہے جب یہ تہوار آئے گا تو لوگ خوشی سے پاگل ہو جائیں گے۔ پھر وہ سعید دن بھی آ جاتا ھے تو سب ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اب کرنا کیا ہے؟ خوشی کا عظیم ترین دن اور خوشی کے اظہار کی کوئی صورت نہیں۔ بوڑھے ایک دوسرے کو کہنے لگتے ہیں، “عید تو بچوں کی ہوتی ہے”۔ خوشی کے تاثر کو نبھانے کے لیے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ خصوصی طور پر تیار ہوئے کھانوں پر ٹوٹ پڑا جائے چنانچہ اس ملک میں خوشی کا اصل مطلب کھانا کھانا ہے!

    خوشی کا کوئی موقع ہو تان کھانے پر ہی ٹوٹتی ہے۔ کسی بھی تقریب کا لب لباب بس کھانا ہوتا ہے۔ قوم کھانا بھی ایسے ٹوٹ کر کھاتی ہے جیسے صدیوں کی بھوکی ہو۔ اصل میں یہ بھوک روحانی اور ذہنی ہے مگر پوری خوراک سے کی جاتی ہے۔ یہاں زندگی نفی کا نام ہے۔ اپنے خیالات کی نفی، جذبات کی نفی، احساسات کی نفی، خوشی کی نفی، بات یا دلیل کی نفی یا دوسرے مذاہب کی نفی !

    آج کے دور میں قومی مسائل کو متنازعہ، غیر سائنسی اور قدیمی فارمولوں سے طے کرنے والی قوم کس طرح ترقی کر سکتی ہے۔ ایسی قوم خیالوں میں ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ ہم کتنی اونچی قوم ہیں اس کے لیے ہم انسانی ترقی کے عالمی انڈیکس پر اپنے آپ کو نہیں دیکھتے صرف ایمان یافتہ ہونا ہی کافی سمجھتے ہیں!

    کچھ عرصہ پہلے تک اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں جنونی جنگنجوؤں اور جہادی تنظیموں کو فروغ دیا گیا، گلی گلی شہیدوں کی لاشیں آتی رہیں، کنٹرول لائن کے پار خوب کافر مارے جاتے رہے۔ مسلح تربیت کے کیمپوں تک ہر پاکستانی کو کھُلی رسائی حاصل تھی۔ کوئی بازار یا مارکیٹ ایسی نہیں تھی جہاں اس کام کے لیے چندے نہ جمع کیے جاتے۔ کسی نے نہیں سوچا کہ پاکستان آہستہ آہستہ تہذیب کے دائرے سے باہر ہوتا جا رہا ہے اور قوم نفرت پسند ہوتی جا رہی ے۔

    دنیا دن بہ دن نئے علوم کی روشنی سے منور ہو رہی ہے اور ہم دن بہ دن پیچھے کو جا رہے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ایسا پورے شعور اور فخر کے ساتھ کر رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کو بھی اندھیرے میں دھکیل رہے ہیں۔

    “ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنائیت میں بھی
    اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے” 

    (سال 2014 میں لکھے گئے اپنے آرٹیکل سے اقتباس)

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply