“غریب کا اللہ کے سوا ہوتا بھی کون ہے”

“غریب کا اللہ کے سوا ہوتا بھی کون ہے”

    by -
    0 0
    Cherry blossom in garden in Hunza valley

    شام بھیگ رہی تھی جب گاڑی نے لاہور کو چھوڑا۔۔۔ سفر میں بارش ہو تو راستے، مکان، کھیت اور لوگ سب نکھرے نکھرے نظر آتے ہیں۔۔۔ شیشوں سے پانی کی بوندیں لکیر بن کر بہتی جاتی تھیں۔۔۔ بھیگے دھندلے شیشوں کے باہر سب کچھ ایبسٹریکٹ سا نظر پڑتا تھا۔۔۔ گاڑی کے شیشے کو تھوڑا نیچے کیا تو ٹھنڈی پھوار بالوں اور چہرے کو بھگونے لگی۔۔۔ یہ ناسٹالجیا کے لمحات تھے جب انسان کی آنکھوں کے سامنے گزرے اسی سے مشابہ لمحے پھرنے لگتے ہیں۔۔۔ جی ٹی روڈ تک آتے آتے اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔۔۔ سڑک کے کنارے ایک دھندلا سا بورڈ نظر پڑا گلگت بلتستان اڈا۔۔۔ لاہور سے نکل کر میں گلگت بلتستان پہنچ چکا تھا۔

    ایک ایسی ہی بارش کی شام تھی جب گلگت سے سکردو جاتے ہوئے بارش نے آ لیا تھا۔۔۔ سکردو روڈ پر بارش برس رہی تھی۔۔۔ کھڑکی سے باہر وادیاں بھیگتی جا رہی تھیں۔۔۔ لوگ دبکے بیٹھے تھے اور جانوروں نے بھی درختوں کے نیچے ٹھکانے بنا لیے تھے۔۔۔ بتیاں روشن ہونے تک کچورا کی بستی میں جیپ داخل ہوئی۔۔۔ اتنے لمبے سفر کے بعد بیٹھے بیٹھے ٹانگیں تھک چکی تھیں میں اس ہلکی بارش میں سیر کو نکل پڑا۔۔۔۔ واپسی تک زکام ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ اگلے دن پھر بارش ہوتی رہی اور جیپ سکردو کے اطراف میں پھرتی رہی۔۔۔۔

    تیسری صبح آسمان سے دھلی ہوئی شفاف اتری۔۔۔۔ گیلے درختوں اور نمزدہ مٹی نے مل کر ہوا میں خوشبو سی بکھیر دی تھی۔۔۔۔ شنگریلا ہوٹل سے پہلے ہی سڑک کنارے حاجی محمد مل گیا تھا۔۔۔۔

    وہ اخروٹ کے درخت کے نیچے جس پر خزاں آ چکی تھی پیڑ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔ پاس سے چشمے کی نالی گزر رہی تھی جس میں تازہ ٹھنڈا پانی بہہ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا۔ میں نے بڑھ کر سلام لی تو بزرگ بولا “اخروٹ” ساتھ ہی اس نے تھیلا اوپر اٹھا کر مجھے دکھانا شروع کر دیا۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ بابا جی اخروٹ بیچنا چاہ رہے ہیں۔ میں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی اور جواب دیا کہ بابا جی اخروٹ نہیں چاہیے۔ حاجی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بڑے عجیب اور اداس سے لہجے میں بولا ” آٹھ سو کے دس کلو صرف آٹھ سو کے میرے گھر کے اخروٹ ہیں کھا کر دیکھ لو اچھا نہ ہوا تو نہ لینا میں صبح سے لے کر کھڑا ہوں کوئی لیتا نہیں میں اب تھک گیا ہوں کھا کر دیکھ لو اچھا لگا تو لے جانا اتنے سستے کون دے گا مجھے گھر جانا ہے “۔ وہ ایک ساتھ کتنی باتیں بے ترتیبی میں کہہ گیا تھا۔۔۔

    میں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی کہ ہمارے ہاں پنجاب میں اکثر ایسے لوگ ملتے ہیں جو جذباتی کر کے پیسے نکلوانا کاروبار سمجھتے ہیں۔ میں نے پھر انکار میں سر ہلایا اور چلنے لگ گیا۔ حاجی نے پیچھے سے آوازیں دیں پر میں نے ان سنی کر دیں۔ شنگریلا بند تھا میں اس کے پاس سے گزرتا ہوا آبادی کی طرف چلنے لگ گیا۔ سوگ نالے پاس پہنچ کر ایک موٹر سائیکل والے نے مجھے لفٹ دی اور میں کچورا کے گاؤں میں پہنچ کر فوٹوگرافی میں مصروف ہو گیا۔

    شام ہونے آئی تھی، موسم پھر سے خراب ہو رہا تھا، واپسی پر جب میں چلتے چلتے اسی جگہ پہنچا جہاں بابا جی سے چار گھنٹے پہلے ملاقات ہوئی تھی تو میں نے دیکھا کہ وہ اخروٹ کے درخت کے نیچے ٹیک لگا کر بیٹھا ہے اور تھیلا پاس ہی رکھا ہے۔ مجھے اس کو دیکھ کر رحم آ گیا میں چلتے چلتے بابا جی کے پاس پہنچ گیا اور بولا کہ لاؤ دے دو اخروٹ۔ بابا جی نے میری طرف دیکھا اور بولے ” تم اگر پہلے لے جاتا تو کیا جاتا تھا یہاں ہر کسی کے پاس اخروٹ ہوتا ہے۔ دکان والے لیتے نہیں، ٹورسٹ کا سیزن نہیں۔ مجھے گھر جانا تھا میری بچی گر گئی تھی وہ زخمی ہے مجھے اسے دیکھنا تھا تم پہلے لے لیتے تو کیا جاتا تھا تمہارا “۔ یہ سن کر میں چپ پو گیا تو بابا بولا ” یہاں سے اوپر سوگ نالے کے پار گھر ہے میرا۔ میرا نام حاجی محمد ہے۔ میں اخروٹ کا کاروبار نہیں کرتا لیکن بیچنے کو کچھ اور نہیں تھا ” یہ کہتے ہوئے اس نے تھیلا میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے بٹوے سے پیسے نکالے اسے دینے کے بعد جب وہ اپنی جگہ سے اٹھنے لگا تو میں نے پوچھا ” بابا جی تمہاری بیٹی کیسے گری ہے “۔ بابا بولا ” اخروٹ کے درخت سے اخروٹ اتارتے ہوئے”۔ میں نے پوچھا ” کہ کیوں اس کو درخت پر چڑھایا تھا اور کیوں بیچنے تھے اخروٹ ” حاجی نے میری طرف دیکھا اس کے آنکھوں میں نمی آ گئی ” بیٹا ایک مہینے سے بیمار ہے پیسے نہیں تھے مجھے کیا پتہ تھا کہ بیٹی بھی گر جائے گی۔۔۔۔ اللہ مالک ہے۔۔۔۔۔۔۔ غریب کا اللہ کے سوا ہوتا بھی کون ہے۔۔۔۔۔ اتنے سستے اخروٹ تمہیں کوئی نہیں دے گا چاہے بازار سے پتہ کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

    حاجی چلا گیا تو بارش برسنے لگی۔۔۔ اس رات اتنی بجلی کڑکی کہ کمرے میں بیٹھا میں دہلتا رہا۔۔۔۔

    سفر ختم ہوا میں واپس آ گیا، ان اخروٹوں کو کھانے کا میرا دل نہیں ہوا میں نے وہ رشتے داروں میں بانٹ دیے۔ سال گزر گیا میں زندگی کی رواں روی میں اس بات کو بھول گیا۔ ایک دن مجھے ایک عزیز نے کہا ” اب کے جانا ہوا تو اخروٹ تو لے آنا پیسے لے لو مجھ سے ابھی لیکن لانا وہی والے اعلیٰ کاغذی اخروٹ تھے۔ باقی سننے والوں نے بھی بات کی تائید کر دی تو میں سوچنے لگا کہ اللہ کرے حاجی کبھی اخروٹ نہ اتارے۔
    سفر سے میسر آئے دکھ سکھ کبھی انسان کو ہنساتے ہیں کبھی رلاتے ہیں۔۔۔۔ دوسروں کی زندگیوں کے بارے جان لینا بھی کیسا عذاب ہوتا ہے کہ انسان کو جب یاد پڑے دل دکھ جاتا ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کچھ نہ جاننے میں ہی سُکھ ہے۔۔۔

    NO COMMENTS

    Leave a Reply