‘میاں صاحب اور ’داد کا ہم شکل بکرا

‘میاں صاحب اور ’داد کا ہم شکل بکرا

    by -
    0 0

    بکر عید کی وجہ سے بکروں کے ریٹ اتنے چڑھ چکے ہیں کہ لوگ جو پہلے گھروں سے باہر گاڑیاں فخر سے کھڑی کیا کرتے تھے اب بکرے باندھنے لگے ہیں۔ میرے عزیزم میاں صاحب ہمیشہ قربانی کرتے ہیں مگر بکرے کی چھان بین کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ انہیں بکروں سے زیادہ بکریوں سے پیار ہے۔ پچھلے سال میاں صاحب مجھے بکرا خریدنے عید کے قریب منڈی لے گئے، میں نے کئی بار گزارش کی کہ میاں صاحب میری بکروں سے کوئی جان پہچان نہیں بلکہ میں تو بمشکل اتنا ہی بتا سکتا ہوں کہ فلاں بکرا ہے اور فلاں بکری اس سے زیادہ میں جانوروں کے بارے کچھ نہیں جانتا۔ بولے تم چلو تو سہی ہو سکتا ہے تمہاری شکل دیکھ کر کوئی ریٹ سستا کر دے یا تمہارا کوئی چاہنے والا نکل آئے نہیں تو کم سے کم تم کیش تو اپنے پاس سنبھال کر رکھ سکتے ہو۔ 

    منڈی پہنچ کر میاں صاحب نے ایک بکرے پر ہاتھ رکھا اور اسے ٹٹول کر، دبا کر چیک کرنے لگے۔ پھر چھان پھٹک کر بولے، “ہاں بھئی کیا قیمت ہے اسی کی “۔ بکرے والا بولا “تیس ہزار روپے”۔ میاں صاحب کی آنکھیں پھیل گئیں، بولے، “کیوں اس کے اندر ٹی وی لگا ہوا ہے کیا” ۔۔۔ پھر بولے “وہ دوسرے بکرے کا کیا لوگے”۔ بکرے والا بولا، “اٹھائیس ہزار روپے “۔ میاں صاحب برجستہ بولے، “کیوں یہ بی اے پڑھا ہوا ہے کیا؟”۔ 

    “آپ کی گنجائش کتنی ہے؟” بکرے والے نے پوچھا ۔۔۔ میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی کہ کوئی بیس ہزار میں بات بن جائے گی ؟ ہم بہت غریب لوگ ہیں ۔۔۔ بکرے والے نے جوابا میرے کان میں سرگوشی کی “غریب ہو تو بکرے کی بجائے مرغی کی قربانی کر لو” ۔۔۔ میں نے پھر اس کے کان میں کہا “مرغی کی قربانی جائز نہیں مولوی صاحب اعتراض کریں گے” ۔۔ بکرے والا میرے کان میں آ کر بولا “مولوی کو پانچ سو لگا دینا مان جائے گا” ۔۔۔ میں نے غصے سے میاں صاحب کو چلنے کا اشارہ کیا تو میاں صاحب بولے ، “کیوں بھئی مُک مُکا نہیں ہوا ؟” میں نے جواب دیا “نہیں … یہ بکرے والا نہیں بلکہ را کا ایجنٹ ہے جو مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے !”

    اس روز کوئی دو سو بکرے دیکھے مگر میاں صاحب کو ایک بھی پسند نہیں آیا ۔ شام ہونے کو آئی تو اچانک ایک بکرے کو دیکھ کر ٹھٹک کر رُک گئے ۔۔ قریب آ کر بغور بکرے کا جائزہ لیا ، اس کی آنکھوں میں جھانکا ، اور پھر یکدم اُس کی مسلسل چُمیاں لینے لگ پڑے ۔۔۔ میں گھبرا گیا کہ میاں صاحب کو کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ انہوں نے بکرے کو سینے سے لگا لیا اور بڑے پیار سے اُس پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔۔۔ سارے لوگ رک کر ہمیں دیکھنے لگے ۔۔۔ میاں صاحب نے آستین سے اپنے آنسو پونچھے اور پھر اُٹھ کر بکرے کی قیمت پوچھنے لگے ۔۔۔ بکرے والے نے قیمت بڑھا دی اور بولا چالیس ہزار سے ایک روپیہ کم نہیں لوں گا ۔۔۔ میاں صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بکرے والے کو رقم دینے کا کہا ۔۔ میں نے کچھ بولنا چاہا تو آگے سے بولے “یہ جتنے پیسے مانگتا ہے دے دو مجھے ہر حال میں یہ بکرا خریدنا ہے” ۔۔۔ 

    میں نے پھر عرض کی کہ میاں صاحب کچھ تو کم کروا لیں ۔ اچانک روندھی ہوئی آواز میں بولے “میں نے کہا ناں دے دو” ۔۔۔ میں نے رقم نکالی اور گن کر بکرے والے کے حوالے کر دی ۔۔ بکرے کی رسی کھینچ کر اسے چلانے لگا تو میاں صاحب بولے “ایسے نہیں اسے پیار سے اُٹھا کر گھر لے جانا ہے” ۔۔۔ آخر آہستہ آہستہ نخروں کے ساتھ چلاتے اسے گاڑی تک لائے اور بیچ میں ڈال کر گھر لے آئے ۔۔ سارا راستہ میاں صاحب انتہائی سنجیدہ نظر آتے رہے ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ہُوا کیا ہے ۔۔۔ گھر پہنچ کر جب میں اُن سے رخصت ہونے لگا تو بجھے بجھے دل سے خدا حافظ بولے ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا تو میں بول پڑا کہ میاں صاحب اس بکرے میں ایسی کیا خاص بات ہے جو آپ کو اس سے اتنی محبت ہو گئی ۔۔۔

    میاں صاحب کی آنکھوں میں نمی بھر آئی اور بمشکل بولے “کیا بتاؤں اس بکرے کی شکل ہُو بہو دادا مرحوم جیسی ہے” ۔۔۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    SIMILAR ARTICLES

    0 0

    NO COMMENTS

    Leave a Reply