نیوزفیڈ بدل دینے والی فیس بک کی نئی اپ ڈیٹ

نیوزفیڈ بدل دینے والی فیس بک کی نئی اپ ڈیٹ

    by -
    0 41

    یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ فیس بک پر ہماری نیوز فیڈ پر اکثر وہی مواد نظر آتا ہے جسے ہم لائک، شیئر یا کمنٹ وغیرہ کرتے ہیں تاہم اب سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹ نے ایسی اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جو آپ کے نیوز فیڈ کو بدل کر رکھ دے گی۔

    اب ضروری نہیں کہ آپ کے فیس بک نیوز فیڈ پر ویسا ہی مواد ظاہر ہو جسے آپ لائک کرنے کے عادی ہیں بلکہ یہ ویب سائٹ اپنے الگورتھم کی مدد سے یہ جان لے گی کہ ایسا کیا چیزیں ہیں جنھیں آپ پڑھ یا دیکھ تو لیتے ہیں لائک یا شیئر نہیں کرتے۔

    مثال کے طور پر اگر آپ اکثر کسی فرینڈ کی پوسٹ پر شاعری پڑھتے یا ویڈیوز دیکھتے ہیں اور انہیں لائک یا شیئر نہیں کرتے تو بھی فیس بک آپ کے ذوق کا اندازہ لگاکر نیوز فیڈ پر اس سے ملتے جلتے مواد کا ڈھیر لگا دے گی۔

    درحقیقت فیس بک اب کسی پوسٹ پر آپ کے گزارے ہوئے وقت کو پیمانہ بناکر آپ کی پسندیدگی کا اندازہ لگائے گی اور اس کا کہنا ہے کہ اس نئے الگورتھم کے ذریعے زیادہ درست طریقے سے کسی صارف کی دلچسپی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

    تاہم اس سے آپ کا یہ راز بھی سامنے آجائے گا کہ آپ کیسے مواد کو خاموشی سے دیکھنے کے عادی ہیں جنھیں آپ شیئر یا لائک کرکے سب کے سامنے نہیں لانا چاہتے۔

    فیس بک کی یہ نئی اپ ڈیٹ ٹارگٹڈ ایڈورٹائزنگ پر بھی اثر انداز ہوگی اور اگر آپ کسی دوست کی مختلف شہروں کی سیر کی پوسٹس یا کمنٹس پڑھیں گے تو ممکن ہے کہ آپ کو مختلف مقامات کی پروازوں کے اشتہارات نیوزفیڈ پر نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔

    اس نئے الگورتھم میں فیس بک آپ کی دلچسپی کا اندازہ اس صورت میں لگائے گی جب آپ ماﺅس اسکرول کرتے ہوئے کسی پوسٹ کے سامنے کچھ دیر تک رک جائیں اور اس طرح بتدریج وہ آپ کی دلچسپی کے موضوعات کا تعین کرکے آپ کے نیوزفیڈ پر ویسا ہی مواد شائع کرنے لگے گی۔

    فیس بک کا کہنا ہے کہ اس اپ ڈیٹ کو کچھ صارفین کے لیے متعارف کرا دیا گیا ہے جبکہ دنیا بھر میں اسے آئندہ چند ہفتوں کے دوران سامنے لایا جائے گا تاہم اس کے اثرات مکمل طور پر کچھ ماہ بعد ہی سامنے آئیں گے۔

    SOURCE dawnnews.tv
    Unbreen Fatima
    Broadcast Journalist from Pakistan. Currently associated with DW as Freelance Correspondent. Several years of experience as a journalist in radio, newspaper, online and TV journalism.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply