پردیس میں پہلی عید

پردیس میں پہلی عید

    by -
    0 0

    پہلا ہر تجربہ انسان کے لیے یادگار ہوتا ہے۔ وہ سائیکل بغیر کسی سہارے چلانا ہو یا جنس کا تجربہ، بندوق چلانا ہو یا تہوار منانا، اس پہلے تجربے کا نشہ یاد بن کر ہمیشہ مسرور رکھتا ہے۔ بطور مسلمان عید ہم سب کے لیے ایک خوبصورت تہوار اور خوشی کا موقع ہوتا ہے، خصوصا چھوٹی عید یا عید الفطر؛ جس میں مہینے بھر کی عبادات اور صبر کے بعد چاند کا اعلان رب سے ملا ایک تحفہ محسوس ہوتا ہے۔ پہلی عید بھی یقیناََ ایک خوشگوار تجربہ ہے مگر افسوس یہ تجربہ یاد نہیں رہتا۔ ہماری پہلی عید کی زیادہ خوشی تو ہمارے والدین کو ہوتی ہے اور ہم شاید اچانک ان کو اتنا خوش دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہوں گے۔ سو پہلی عید تو یاد نہیں مگر پردیس کی پہلی عید ضرور یاد ہے۔

    صاحبو، پردیس (گلاسگو) میں پہلی عید آئی تو سب سے زیادہ خوش خواجہ تھا۔ شیطان سے بھی زیادہ۔ خواجہ گوجرانوالہ کا کشمیری تھا اور انتہائی خوش خوراک۔ باڈی بلڈنگ کا شوقین تھا اور اس کا “ڈولا” اتنا بڑا تھا کہ تکیہ پر نہیں اپنے ڈولے پہ سر رکھ کر سوتا تھا۔ ایک دن میں یونیورسٹی سے گھر آیا تو خواجہ گہری سوچ میں گم اداس بیٹھا تھا۔ کیا ہوا خواجہ؟ خواجہ نے ہرنی جیسی معصوم آنکھوں سے مجھے دیکھا اور کہا “یار روزے آ رہے ہیں”۔ یقین کیجئے یہ بات اس نے اسی لہجے میں کہی جیسے انسان کہتا ہے کہ ابا جی کو کینسر ہو گیا ہے اور ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ میں کوشش کے باوجود اپنا قہقہہ نہ روک سکا اور کہا یار خواجہ حوصلہ کر، گزر جائیں گے۔ کہنے لگا نہیں یار ستارا (سترہ) گھنٹے کا روزہ ہے، میرے ہوٹل پہ تو گرمی بھی بہت ہوتی ہے، میں تو روز پانچ بوتل پانی پی جاتا ہوں گرمی سے، ہائے میں کیا کروں۔ اب اگلے دس دن رمضان شروع ہونے تک یہ معمول بن گیا کہ خواجہ میرے پاس آ بیٹھتا اور دھیرے سے کہتا “فیر کی مشورہ اے تہاڈا” (پھر کیا مشورہ ہے آپکا؟)۔ آخری دن میں نے کہا اوئے خواجے، تیری نیت روزے چھوڑنے کی ہے پر تو میرے کندھے پہ رکھ کر بندوق چلانا چاہتا ہے۔ بندہ بن روزہ رکھ۔ یا پھر نہ رکھ پر میں کوئی فتویٰ نہیں دینا۔ خیر خواجے نے روزے کتنے رکھے یہ اس کا اور اللہ میاں کا آپسی معاملہ، پر عید کے اعلان کی خوشی اسے سب سے زیادہ تھی۔

    عید کے دن ہم سب نے اپنی اپنی اکلوتی شلوار قمیض نکال کر استری کی۔ پہلا کلچرل شاک یو کے کا یہ ہوتا ہے(کم از کم میرے لیے تھا) کہ پورے گھر میں ایک ہی باتھ روم ہوتا ہے۔ تو ہم ایک دوسرے کو جلدی نہانے کی آوازیں لگاتے تیار ہوئے اور نزدیک ہی چرچ میں بنی مسجد پہنچ گئے۔ یہاں ایک ہی مسجد میں عید کی عموماً تین یا چار نمازیں ہوتی ہیں گھنٹے گھنٹے بعد۔ ہم ذرا جلدی والی نماز میں آئے کہ خواجے اور ایک اور ہاوس میٹ کو نو بجے کام پر جانا تھا۔ پہنچ کر اندازہ ہوا کہ یہ عرب بھائیوں کی جماعت ہے، ماشاللہ۔ اتنے عربی ایک ساتھ یا فلموں میں دیکھے تھے یا اس دن مسجد میں۔ ہم جو گھروں سے دور پہلی عید کر رہے تھے، لگا اپنوں میں آ گئے ہیں۔ پہلا جھٹکا تو تب لگا جب امام کے سورۃ فاتحہ ختم کرتے ہی آمین کی اتنی لمبی اور زوردار آواز آئی کہ خواجے نے گھبرا کر ہاتھ کھول دئیے اور پریشانی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ پھر یکدم آواز آئی، “توبہ استغفار، دوبارہ اللہ اکبر”۔ یقین کیجیے اگر مار پڑنے کا ڈر نہ ہوتا تو میں ہنستے ہوئے زمین پہ گر جاتا۔ خیر نماز عید ادا ہوئی اور ہم خطبہ سننے دو زانو ہو کر بیٹھ گئے۔ اب ہم کو عادت تھی پانچ دس منٹ خطبہ سننے کی۔ یہاں جب پچیس منٹ گزر گئے اور عرب امام صاحب بولتے رہے تو پریشانی سی ہونے لگ گئی۔ پیر سو گئے تو صبر جواب دے گیا اور میں چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ دیکھا تو کئی لوگ اٹھ کر جا رہے تھے۔ خواجہ بولا یار چلئیے؟ میں نے کہا نہیں نہیں خطبہ سننا واجب ہے۔ پندرہ منٹ اور گزرے تو پیٹھ بھی دکھنے لگی۔ اب کبھی میں ایک سائیڈ پہ بیٹھوں تو کبھی دوسری۔ دیکھا تو خواجہ تقریباً نیم دراز تھا کہ اتنا وجود ایک نرم پیٹھ کب تک برداشت کرتی، خواہ وہ خواجے کی اپنی ہی تھی۔ خیر امام صاحب بیٹھے اور دعا کرنے لگے، ہم نے بھی فوراََ خوشی خوشی دعا شروع کی۔ اچانک انھوں نے آمین کہا اور پھر کھڑے ہو گئے۔ خواجہ یکدم کھڑے ہوتے ہوئے بولا “نا بھئی، اپنے بس کی بات نہیں۔ میں گھر جا رہا ہوں، کام پہ بھی جانا ہے”۔ اس دن ایک گھنٹہ پینتیس منٹ کا خطبہ سن کر جب میں گھر پہنچا تو اگلا ایک گھنٹا بستر پر پڑا رہا اور قسم کھائی کہ آئندہ کسی عربی کے پیچھے، کم از کم انگلینڈ میں، عید کی نماز نہیں پڑھنی۔

    عید کا باقی دن ان پرانی عیدوں کو یاد کرتے گزرا جب عید اپنوں کے ساتھ ہوتی تھی۔ کام سے چھٹی لی ہوئی تھی کہ ہماری عید ہے مگر باقی سب کام پر تھے۔ گھر فون کیا تو فون کے دونوں جانب عید کی مبارک آنسوؤں بھری آواز میں تھی۔ گھبرا کر باہر نکلا اور یقین کیجئے ہر اس شخص کو زبردستی جپھی ڈال کر عید مبارک کہا، جس پر مسلمان ہونے کا ہلکا سا بھی شک ہوا۔ افسوس گوریاں شکل سے ذرہ مسلمان نہیں لگتیں۔ کچھ گھنٹے ادھر ادھر پھرنے اور فضول یادیں سوچنے کے بعد کچھ سمجھ نہ آیا تو یونیورسٹی لائبریری میں چلا آیا اور خوامخواہ پڑھنے لگ گیا۔ شام اتری تو ہوٹل سے کھانا کھایا اور کمرے میں آ کر سو گیا۔ اس دن سمجھ آیا کہ ایک تو اقلیت کا تہوار ہر جگہ معاشرتی تنہائی کا شکار ہوتا ہے۔ اور دوسرا کہ پردیسیوں کی عید نہیں ہوتی۔

    NO COMMENTS

    Leave a Reply