کجی

کجی

    by -
    0 113
    Image source: thenational.ae

    آپ گاہک ہیں اور کوئی چیز خریدنے کے لیے دکان کے اندر پہنچتے ہیں۔ آپ دکان کے دروازے پر ہی ایک میز کے پیچھے آرام کرسی سے ٹیک لگائے دکان کے مالک کے چہرے پر ایک نظر ڈال کر مسکراتے ہیں۔ تاہم آپ کو اس مسکراہٹ کے جواب میں کوئی مسکراہٹ نہیں ملتی۔ دکان کا مالک ایک سرسری سی نظر آپ پر ڈالتا ہے اور پھر کسی اور طرف دیکھنے لگتا ہے، گویا آپ کو سرو کرنا اُس کے کارندوں کا کام ہے، اُس کا نہیں۔ اسی ابتدائی لمحے میں آپ کو محسوس ہو جائے گا کہ آپ اس دکان میں ویلکم نہیں ہیں۔

     

    جب آپ اپنے مطلب کی چیز کی تلاش کے دوران اپنی مطلوبہ چیز کے معیار یا قیمت پر ذرا سا اعتراض کریں گے، تب دکان کا مالک بھی سر اٹھائے گا اور وہیں بیٹھے بیٹھے بڑی رعونت کے ساتھ کوئی متکبرانہ تبصرہ داغ دے گا۔ ساتھ ہی وہ زبان سے نہیں تو اپنے لب و لہجے سے تو ضرور آپ کو یہ پیغام دے دے گا کہ چیز لینی ہے تو لیں، ورنہ آگے کسی اور دکان کا رخ کریں۔

     

    آپ بیمار ہیں اور ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بے ا عتنائی کے ساتھ آپ کو دیکھے گا اور بڑی تکلیف کے ساتھ پوچھے گا، کیا تکلیف ہے؟ اِدھر آپ تکلیف بتانا شروع کریں گے، اُدھر وہ نسخہ لکھنا شروع کر دے گا۔ آپ اپنی پوری کیفیت بتا بھی نہیں پائے ہوں گے کہ وہ نسخہ آپ کے ہاتھ میں دے کر آپ کو اٹھ کھڑا ہونے اور اگلے مریض کے لیے جگہ خالی کرنے کا کہہ چکا ہو گا۔ پاکستانی ڈاکٹروں کے ہاں یہ روایت سرے سے ہے ہی نہیں کہ اُن کی سمجھ میں آپ کا جو مرض آیا ہے، اُس کے بارے میں وہ آپ کو کوئی تفصیل بتائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام مریض ڈاکٹر کے پاس گھیرا ڈالے بیٹھے ہوں گے اور جب آپ اپنی بیماری کا حال بتا رہے ہوں گے تو باقی مریض بھی ہمہ تن گوش بنے ہوں گے حالانکہ مریض اور ڈاکٹر کے درمیان ایسی جگہ گفتگو ہونی چاہیے، جہاں کوئی تیسرا جان ہی نہ سکے کہ مریض کو مسئلہ کیا ہے اور ڈاکٹر کے ساتھ اُس کی بات کیا ہوئی ہے۔

     

    آپ طالب علم ہیں اور  علم کی شرط اول ہے، سوال کرنا لیکن آپ زیادہ سوال کریں گے تو استاد آپ کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ وہ کتاب کی بجائے گیس پیپرز کی حمایت کرے گا کیونکہ خود وہ بھی بہت سی چیزوں سے نابلد ہے۔ استاد اور شاگرد کے قدیمی مقدس اور مستحکم رشتے کی جھلک آج کل ندارد ہے۔ استاد طلبہ کے لیے مثال بننے میں نہیں بلکہ ٹیوشن پر ٹیوشن پڑھاتے ہوئے سارے معاشرے کی طرح پیسے کی دوڑ میں آگے سے آگے بڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ عامیانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور قطعاً محسوس نہیں کرتے کہ بچے بھی اُنہیں دیکھ کر ویسا ہی کریں گے۔ وہ لیکن خود کو اُن کے مستقبل کے رویوں کے لیے کسی بھی طرح سے ذمے دار نہیں سمجھتے۔

        

    آپ  عوام ہیں اور سیاستدان آپ کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران ہر اچھا برا وعدہ کرتے ہیں، اچھی طرح سے جانتے ہوئے کہ یہ وعدے وفا نہیں ہونے والے لیکن ووٹ حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولنے میں بھلا کیا حرج ہے بلکہ اس رویے پر الٹا داد طلب کی جاتی ہے کہ میاں، یہ ہوتی ہے ’سیاست‘۔ اور یوں سیاست ’مکر و فریب‘ کے ہم معنی ہو کر رہ گئی ہے۔

     

    ان حالات کو دیکھ کر کسی بھی با بصیرت شخص کے ذہن میں اس سوال کا جنم لینا ایک فطری سی بات ہے کہ ایسا آخر کیوں ہے؟ کہیں معاشرے کے اندر کوئی بنیادی قسم کی کجی تو نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ کجی کیا ہو سکتی ہے! اس کے بعد اگلا سوال یہ ہو گا کہ آخر وہ کیا چیز ہے، جسے اپنا لیا جائے تو یہ کجی دور ہو جائے گی؟

     

    اس سوال کا ایک ممکنہ جواب ہو سکتا ہے، مذہب۔ کرہء ارض پر انسانوں کی رہنمائی کے لیے جتنے بھی راہبر اور پیغمبر آتے رہے، وہ یہی سوچتے تھے کہ اگر سبھی لوگ مذہبی تعلیمات پر کاربند رہیں گے تو وہ اپنے فرائض بھی اچھی طرح سے انجام دیں گے اور ساتھی انسانوں کے ساتھ بھی شفقت اور محبت سے پیش آئیں گے۔ کسی کے ساتھ مکر و فریب سے بھی کام نہیں لیں گے، کسی کا دل بھی نہیں دکھائیں گے اور لالچ اور حرص و ہوس سے بھی محفوظ رہیں گے۔

     

    لیکن آج پاکستان میں بظاہر مکمل طور پر مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے لوگوں کے حالات دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ یہ لوگ وضع قطع سے تو نورانی بزرگوں کی طرح نظر آتے ہیں، پانچوں وقت نماز بھی پڑھتے ہیں، اٹھتے بیٹھتے دین کی باتیں بھی کرتے ہیں لیکن  عملاً اِن کی اکثریت بھی ہر اُس برائی میں مبتلا ہے، جس میں باقی سارا معاشرہ مبتلا ہے۔ ذہن پر ذرا سا زور دینے سے آپ کو یاد آ جائے گا کہ جس دکان کے مالک نے آپ کو آج اچھی طرح سے ڈیل نہیں کیا تھا ، وہ ایک نورانی صورت بزرگ ہی تھا۔ ہو سکتا ہے، وہ ڈاکٹر بھی مذہبی رسومات پابندی اور باقا عدگی سے سرانجام دیتا ہو، جس نے آج آپ کے چیک اَپ میں کوتاہی کی تھی۔ یوں مذہب پر کاربند اُن لوگوں کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی چلی جائے گی، جن کے طرزِ  عمل سے آپ مطمئن نہیں ہیں۔ گویا اگر باقی سارے لوگ بھی داڑھیاں رکھ لیں یا نماز پنجگانہ ادا کرنا شرو ع کر دیں تو بھی ایک  عام پاکستانی کا مسئلہ حل ہوتا اور معاشرے کی بنیادی کجی دور ہوتی نظر نہیں آتی۔ تو پھر اُسے کیسے دور کیا جائے؟ اور دور تو وہ تب ہو گی، جب پتہ چلے گا کہ کجی ہے کیا!

     

    کچھ لوگوں کے خیال میں مذہب پر عمل پیرا ہونے سے زیادہ ضروری دنیوی تعلیم ہے۔ جتنا زیادہ انسان  علم حاصل کرے گا، اتنا زیادہ وہ اتنی بڑی کائنات میں اپنے مقام سے آگاہی حاصل کر سکے گا۔ تب اُسے دوسرے لوگوں کے مسائل کا بھی ادراک ہو گا اور وہ زیادہ سے زیادہ اس قابل بھی ہو گا کہ خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر سوچ سکے۔ تب وہ اپنے فزائض بھی تندہی سے انجام دے گا اور ساتھی انسانوں کو تکلیف دینے سے بھی گریز کرے گا۔

    لیکن …۔ لیکن یہی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہی تو ہیں، جو اُن حکومتوں کے کرتا دھرتا رہے ہیں اور ہیں، جن سے  عوام کے مسائل حل ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتے چلے گئے ہیں۔ اونچے سے اونچے عہدوں پر یہی پڑھے لکھے لوگ ہی تو براجمان ہیں۔ یہی تو ہیں، جنہیں اپنے علم اور اُس کے بل پر حاصل ہو جانے والے اختیارات پر غرور ہے۔ یہی تو ہیں، جو تمام تر اختیارات اور اہلیت ہونے کے باوجود بنی نوع انسان کی بھلائی کی بجائے اپنے خاندان یا قریبی ترین عزیزوں ہی کی بھلائی کو اپنا اصل نصب العین گردانتے ہوئے مادی عیش و آرام کے پیچھے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ دنیوی تعلیم سے آراستہ انہی لوگوں نے تو قوم کی کشتی کو ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر تو کجی کو دور کرنے میں تعلیم کا بھی کوئی کردار نہ ہوا۔

    سوال لیکن وہی ہے کہ کجی ہے کیا کہ جسے دور کرنے کا کوئی نسخہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ شاید اس کجی کا تعلق ہمارے عمومی اخلاقی رویوں سے ہے۔ ہمارے قول اور فعل میں تضاد ہے۔ ہم خدا کو اپنا رب مانتے ہیں لیکن دراصل نہیں مانتے۔ ہم اپنے پیارے نبیﷺ کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت نہیں سمجھتے کیونکہ ہمارا دل ہمیں یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ نعوذ باللہ نبیﷺ نے تو سارے اچھے اچھے کام کر کے گھاٹے کے سودے کیے، ہم لیکن یہ افورڈ نہیں کر سکتے۔ مذہی تعلیمات تو زمان و مکاں کے فاصلے مٹا کر آپ سے یہ کہتی ہیں کہ آپ کی ایک طویل سنہری تاریخ ہے اور آپ اچھے اعمال کرتے ہوئے تا قیامت اپنا نام سنہری حروف میں لکھوا سکتے ہیں۔ ہمیں لیکن غرض ہے اپنے اُن مختصر مدتی فوائد سے، جو ہمیں تھوڑی ہی دوری پر اپنی گرفت میں آتے نظر آ تے ہیں، ایسے میں کون سا مذہب اور کون سی اُس کی تعلیمات؟ 

     

    تو …! تو یہ کہ کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں لیکن اصل میں لا مذہب ہیں اور نہ صرف یہ کہ ہمارا کوئی مذہب نہیں بلکہ ہم کسی بھی طریقے، ضابطے یا اصول کی پیروی نہیں کر رہے۔ کوئی کمیونسٹ لادین ہو کر بھی اپنے اصول رکھتا ہے لیکن چونکہ آپ شتر بے مہار ہیں، اس لیے آپ کے کوئی اصول نہیں۔ آپ ہمیشہ سامنے کے فائدے پر نظر رکھتے ہیں، دور اندیشی، بصیرت اور طویل المدتی سوچ یا فکر جیسے الفاظ آپ کی لغت میں سرے سے ہیں ہی نہیں۔ پیسہ، کاروبار، ملازمت، مکان، کار، کوٹھی، اولاد … بس آپ کو یہی نظر آتا ہے۔ لیکن آپ یہ دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے کہ اصل چیز، جس کے لیے جدوجہد کی جانی چاہیے، وہ ان سامنے کی چیزوں سے ماورا کچھ ہے۔

    آپ محض ایک اکائی نہیں بلکہ ایک اجتماع کا حصہ ہیں۔ اس اجتماع کی جانب سے آپ پر کچھ فرائض بھی عائد ہوتے ہیں۔ اس انسانیت کے ارتقاء میں کچھ تو حصہ آپ کو بھی ڈالنا چاہیے۔ کچھ تو ایسا کر جائیں کہ جس کا فائدہ آپ کے قریبی ترین رشتے داروں کو ہی نہیں بلکہ اُن لوگوں کو بھی ہو، جن سے آپ کا سرے سے کوئی خونی یا قریبی رشتہ نہیں ہے۔ تاہم ایسا تو تبھی ہو گا، جب آپ اخلاقی طور پر ایک بہتر انسان ہوں گے۔ تو …! مسئلہ دینی یا دنیوی تعلیم کا نہیں بلکہ ’اخلاقیات‘ کا ہے، شاید۔ اخلاقیات کا یہ درس آپ کو مذہب سے بھی مل سکتا ہے اور دنیوی تعلیم سے بھی۔ لیکن آپ تو سرے سے یہ درس لے ہی نہیں رہے۔ نہ آپ مخلص ہیں اور نہ ہی درس دینے والے مخلص ہیں۔ نہ مسجد کا امام اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت کا حامل اور نہ ہی کسی گورنمنٹ اسکول میں پڑھانے والا استاد۔

    ایسے میں ہمیں یا تو ایسے لوگ درکار ہیں، جو اچھی اخلاقیات کی عملی مثالیں بنیں اور ہم اُن کی دیکھا دیکھی اُن کے سانچے میں ڈھلتے ہوئے اچھے انسان بنتے چلے جائیں۔ یا پھر شاید ہمیں ایسے حاکم درکار ہیں، جو ہمیں ڈنڈے کے زور پر سیدھا کریں۔

    ہم دکاندار ہیں یا گاہک، طالب علم ہیں یا استاد، مریض ہیں یا ڈاکٹر اور عوام ہیں یا سیاستدان، ہم میں سے کوئی بھی دیانتداری کے ساتھ وہ کچھ نہیں کر رہا، جو اُسے کرنا چاہیے۔

    مغربی دنیا میں اسلام نہیں لیکن ایسی ’اخلاقیات‘ کا وجود ضرور ہے، جس میں معاشرے کے سبھی ارکان اپنا اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ ایک تو بچپن سے اُن میں بنیادی دینی تعلیمات کو پختہ کر دیا جاتا ہے تاکہ احسن اخلاقی رویے اُن کی فطرت ثانیہ بن جائیں اور جب تک اِن بچوں کی معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کی باری آئے، تب تک اجتماعی فلاح، سچائی، بے باکی، خلوص نیت، محنت اور دیانت اُن کے رگ و پَے میں اتنا سرایت کر چکے ہوں کہ اُن سے روگردانی کرنے سے پہلے وہ سو بار سوچیں۔

     

    تاہم مغربی معاشروں میں عملی زندگی کے دوران محض اس بنیادی تعلیم پر ہی تکیہ نہیں کر لیا جاتا بلکہ ایسے قواعد و ضوابط اور بنیادی اصول اور نظام بھی وضع کر دیے جاتے ہیں کہ کوئی ان مثبت رویوں کے منافی رویہ اختیار کرنا چاہے بھی تو نظام اُسے ایسا نہ کرنے دے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم اپنے اُس پیارے پیغمبرﷺ سے کچھ نہیں سیکھ سکتے، جن کے ساتھ محبت اور  عقیدت ہمارے ہوش و حواس کے ابتدائی لمحوں سے ہمیشہ ہمارے ہم رکاب رہتی ہے اور جن کی زندگی تمام تر اخلاقیات کا  عملی نمونہ تھی تو ہم بھلا مغرب سے کیا سیکھیں گے کہ جس کی سائنسی دریافتوں کے بغیر تو ہمارے لیے ایک لمحہ گزارنا بھی مشکل سہی لیکن جس کی اخلاقیات کو ہم اٹھتے بیٹھتے ہدفِ تنقید بناتے رہتے ہیں؟

    Amjad Ali
    Amjad Ali is a journalist and working as a Senior News Editor with one of the international broadcasters. He has a passion to write. Photography, sketching and videography are his hobbies.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply