ایک کوہستانی کی غیرت

ایک کوہستانی کی غیرت

    by -
    0 0

    گاڑی دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ میں سڑک سے کہیں نیچے بہتے سندھو دریا کے سبز پانیوں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ سفر میں سانس لیتے لوگوں کی زندگی میں سُکھ کس چیز کا نام ہے۔ ایک سفر تو وہ بھی ہے جو آنکھ اوجھل ہے جو ہمہ دم جاری رہتا ہے۔ تنفس کا عمل بھی تو ایک سفر ہے۔ کئی لوگ بس سانس ہی لیے جاتے ہیں یا قہقہوں سے پھیپھڑے بھر لیتے ہیں مگر ایسے لوگوں کا سُکھ کیا ہے جن کے جسم میں ہر سانس کے ساتھ ایک سوچ، خیال، فکر بھی حلول کرتی ہے۔ تنہا روی اگر انسان کا مقدر ہے تو پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے۔ گاڑی میں کوہستانی لوگوں کی بڑی تعداد سفر کر رہی تھی۔ انہی سخت جان لوگوں کی وجہ سے ان ویرانوں میں زندگی کا وجود ہے۔ خواتین نے سر سے پاؤں تک ٹوپی والے برقعے پہنے ہوئے تھے اور انہی برقعوں کے اندر سے وہ کھاتیں پیتیں۔ ایک کوہستانی بچہ میری سیٹ کے پاس آ کر مجھ سے نمکو مانگنے لگا۔ میں نے پیکٹ اس کے حوالے کیا تو اس کے باپ نے دیکھ لیا۔ گرجدار آواز میں اپنے بچے کو ڈانٹا اور نمکو مجھے واپس کر کے کہنے لگا “یہ آپ رکھو بچہ ویسے ہی تنگ کر رہا ہے”۔

    سفر جاری رہا۔ داسو میں گاڑی کچھ دیر کو رُکی تو وہی بچہ پھر معصوم شکل بنائے سامنے آ گیا اور پھر نمکو مانگنے لگا۔ میں نے پھر اسے نمکو دے دی اور بولا کہ اپنے باپ کو نہ بتانا چھُپ کر کھا لو ورنہ وہ پھر ڈانٹے گا۔ نمکو کا پیکٹ لے کر بچے نے دوڑ لگا دی۔ کچھ دیر گزری ہو گی کہ اس بچے کا باپ پھر مجھے ڈھونڈتا آ گیا اور جیب سے بیس روپے نکال کر مجھے دینے لگا۔ میں نے اسے کہا کہ پیسے نہیں چاہییں، بچہ مانگ رہا تھا، اس کا دل کر رہا تھا، تو میں نے دے دی اس میں ایسی کوئی غلط بات نہیں آپ شرمندہ نہ کرو مجھے۔ مرد بولا، “ہم درخت کے پتے کھا لیتا ہے بھوک لگے مگر کسی سے مانگ کر نہیں کھاتے، یہ بچہ بہت ضدی ہے مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میرا بچہ کسی سے کچھ مانگ کر کھائے”۔ بہرحال اُس کو لوٹا دیا میں نے۔ گاڑی پھر سے چلنے لگی۔ 

    سفر شروع ہوا تو سندھو دریا نے رخ بدلا۔ میری سمت اب بس کٹے ہوئے پہاڑ تھے جن کے ساتھ ساتھ گاڑی موڑ کاٹتی بھاگتی جا رہی تھی۔ کوہستانی مرد نے بچے کو اپنے پاس دبک کر بٹھا رکھا تھا۔ کچھ دیر بعد جب اس کا اسٹاپ آیا تو اس نے اپنے بیوی بچے گاڑی سے اُتارے۔ مڑ کر خود واپس آیا تو فوراً بیس روپے میری جھولی میں ڈال کر تیزی سے گاڑی سے اُتر گیا۔ میں اُسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ گاڑی چل پڑی۔ سندھو دریا کے پانیوں کی وحشت میں اب حیرت گھُل گئی تھی۔ کوہستانی کی غیرت گلگت کے آنے تک میرے دماغ میں ہلچل مچاتی رہی۔ میں سمجھ چکا تھا کہ انہی بیس روپوں سے وہ اپنے بچے کو نمکو بھی دلا سکتا تھا مگر پیسوں کی کمی کے باعث وہ صرف اپنے بچے کو دلاسے دے کر سفر کروانا چاہتا تھا۔ جب ایسا ممکن نہ ہو سکا تو اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ بچہ کسی سے لے کر کھا لے۔ مجبوراً جاتے جاتے بیس روپے میرے گود میں ڈال گیا۔ غربت میں انا کا صحیح مفہوم ایک سادہ سا کوہستانی سمجھا گیا تھا ۔ گلگت آیا تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میرے بالوں کے ساتھ خیالوں کو بھی اڑانے لگے۔ بیس روپے میرے ہتھیلی میں گچومچو بن کر کب سے مسلے جا رہے تھے۔ اڈے پر ایک فقیر نے ہاتھ آگے کر دیا تو میں نے اُن بیس روپوں کے بھوت سے نجات حاصل کرنے کو اس کے کشکول میں ڈال دیے۔ سامان سمیٹا اور نلتر کو روانہ ہو گیا جس کی برفوں نے میرے جسم و ذہن کو منجمد کر دینا تھا۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply