گانچھے: قدرتی اور انسانی حسن سے مالا مال خطہ

گانچھے: قدرتی اور انسانی حسن سے مالا مال خطہ

    by -
    2 105

    پاکستانی شمالی علاقے بلتستان کا ضلع گانچھے الگ تھلگ سربلند پہاڑوں کے بیچ بسی دلکش وادیوں، دلنواز بستیوں اور کھلی دریائی زمینوں کے ساتھ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی دوشیزہ اپنے حسن و جمال کے پورے ادراک کے ساتھ سہمی گھبرائی ہوئی سب سے آخر میں کھڑی ہو۔

    سنگلاخ نوکیلے پہاڑوں، بہتے نیلگوں پانیوں، بلندی سے گرتی آبشاروں کی یہ سرزمین قدرتی و انسانی حسن سے مالا مال ہے۔ گانچھے کا صدر مقام خپلو اپنے نام کی طرح خوبصورت ہے۔ دریائے شیوک کے کنارے بسی یہ آبادی آج بھی اتنی ہی سادہ و خالص ہے جتنی صدیوں پہلے تھی، جب یارقند سے سالتورو کے راستے پہاڑوں کو عبور کرتا انسان ہجرت کر کے اس خطے میں وارد ہوا۔

    گانچھے کی مزید تصاویر یہاں دیکھیے 

    اسکردو کو چھوڑتے ہوئے نکلیں تو ایک تنگ مگر پکی سڑک دو رویہ پاپولر کے درختوں کے بیچ گِھری مسافر پر سایہ کرتے چلتی ہے۔ درختوں سے چھن چھن کر اترنے والی سورج کی روشنی تارکول پر دھوپ چھاؤں کا رقص اور درختوں کے آڑھے ترچھے لمبے سائے ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا اگر قدرت سے ذرا بھی رغبت رکھتا ہو تو مبہوت ہو کر دیکھتا رہ جائے۔ 

    موسم اگر خزاں کا ہو تو پاپولر کے پیلے پڑتے درخت کالے تارکول پر بھی پیلاہٹ پھیلا دیتے ہیں۔ سڑک سے ذرا ہٹ کر بائیں جانب دریائے سندھ چپکے چپکے بہتا ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ذرا آگے جا کر ایک سڑک وادی شِگر کی طرف مڑ جاتی ہے۔ دو دریاؤں کے ملاپ کی سرزمین شِگر جہاں بالتورو گلیشیئر سے نکلتا دریائے برالڈو ایک وسیع میدان میں اپنے برفانی نیلے پانیوں کو سندھ کے سبز پانیوں کے سپرد کرتا وادی شِگر کی زمین کو خوبصورتر رنگوں میں رنگ دیتا ہے۔ 

    اوپر سے دیکھیں تو یہ نظارہ کسی مصور کا شاہکار لگتا ہے جس نے گہرے نیلے، سبز اور براؤن رنگوں کے اسٹروکس کینوس پر جا بجا لگائے ہوں۔ وادی شِگر سے گزر کر یہ سڑک ضلع شِگر کی آخری انسانی آبادی اسکولے گاؤں تک جاتی ہے، وہیں سے سیاح اور کوہ نورد دنیا کی بلند چوٹیوں کے ٹو اور براڈ پِیک کی پیدل راہ لیتے ہیں۔ 

    اسکردو سے نکلتے پاپولر کے دو رویہ درختوں کے بیچ ٹھنڈی سڑک پر دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ سفر کرتے بھیڑوں کے ریوڑ مسافر کا راستہ کاٹتے ہیں۔ سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ بل کھاتی چھوٹی چھوٹی بستیوں سے گزرتی یہ سڑک دریائے سندھ کا پل پار کرتے ہی ضلع گانچھے میں داخل ہو جاتی ہے۔ 

    دریا پر بنا قدیم طرز کا لکڑی کا پل اب بوسیدہ ہو رہا ہے، اس کے تختے جگہ جگہ سے شکستہ پڑ چکے ہیں۔ اسکردو چُھوٹا، گانچھے آیا، منظر جوں کے توں رہے، مگر موت کی ہیبت طاری ہو گئی۔ وہی پہاڑوں کی وحشت، ویسی ہی بل کھاتی سڑک پر منظر میں دریائے شیوک کا اضافہ ہوا۔ شیوک کے لفظی معنی موت کا دریا ہیں۔ سیاچن گلیشیئر کے ہمسائے ریمو گلیشیئر لداخ سے نکلتا یہ دریا گانچھے کے مقام مچلو سے آگے بلتستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔

    دریائے شیوک کے ساتھ ساتھ چلتے جائیں تو راستے میں سڑک کے بائیں ہاتھ دریا کے اوپر بنا لکڑی کا پل وادی سالتورو کو جانے کا راستہ ہے۔ پل عبور کرتے ہی ایک وسیع و عریض میدان ہے، جو چھوٹے چھوٹے گول پتھروں سے بھرا پڑا ہے اور عقب میں سالتورو کا پہاڑی سلسلہ دیوار بنے کھڑا دِکھتا ہے۔ مشہ بروم پہاڑ کو جانے وانے والے کوہ نورد اسی وادی سے راہ لیتے ہیں۔ 

    552cc05d48e07 

    خپلو شمال کا سرد ترین علاقہ ہے۔ سردیوں میں اس کا درجہ حرارت منفی بیس سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے اس لیے اسے “تیسرا قطب” بھی کہتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قطبِ شمالی و جنوبی کے بعد اگر کوئی تیسرا قطب ہے تو وہ خپلو ہے۔ 

    پہاڑوں پر خزاں کا موسم میرے مزاج سے ملتا جلتا ہے اس لیے مجھے خزاں ہر سال بلاتی ہے۔ خزاں کا موسم ایک طرح سے انتشار کا موسم ہے۔ تعلق کے ختم ہونے کا موسم، شجر سے پتے کا رابطہ ٹوٹے تو لڑکھڑاتا زمین پر آتا ہے۔ ایک آوارہ گرد کو ٹوٹے پتے کا دکھ سانجھا لگنے لگتا ہے۔ اگر خزاں شمال کے آخری کونے میں بسی خپلو کی بستی میں اتر آئے تو ارد گرد بکھرے خزاں کے رنگوں کے بیچ دل دھڑکتا نہیں ٹپکنے لگتا ہے۔

    صدیوں پہلے سارا خطہ بدھ مت کے زیرِ اثر تھا، آج بھی قدیمی پتھروں پر اس دور کے کھدے ہوئے آثار ملتے ہیں۔ 1570ء میں سید ناصر طوسی اور سید علی طوسی دو بھائی یارقند سے سالتورو کے راستے خپلو پہنچے اور اسلام کی تبلیغ کی۔ بازار سے نکل کر ایک سڑک اوپر چڑھتی ہوئی قلعہ خپلو تک جاتی ہے۔ اس قلعہ کو 1840ء میں یبگو راجا خپلو نے تعمیر کیا۔ یبگو خاندان کے لوگ وسطی ایشیاء کے علاقے یارقند سے یہاں وارد ہوئے اور خپلو پر 700 سال تک حکمرانی کی۔ قلعہ کے اندر اب سرینا ہوٹل وجود میں آ چکا ہے۔ قلعہ کی پرانی طرز پر ازسر نو تعمیر بہت مہارت سے کی گئی ہے۔ دریائے شیوک کے کنارے آباد اس بستی میں مکمل لکڑی سے بنی قدیم ترین اور پرسکون مسجد بھی واقع ہے اور یہاں پر حکمرانی کرنے والے راجاؤں کی رہائش گاہ بھی۔ مسجد کے اندر جیسے صدیوں کا سکوت خیمہ زن ہے۔ بیٹھے بیٹھے ہزاروں سجدے جبینِ بے نیاز میں تڑپنے لگتے ہیں۔

    خپلو کو چھوڑ کر آگے بڑھیں تو اسی بل کھاتی سڑک پر دریائے شیوک کا کھلا میدان آتا ہے جہاں یہ دریا پھیل کر نالیوں کی صورت میں اپنے وسیع کنکر بھرے میدان میں بہتا ملتا ہے۔ یہیں سے اس کے عقب میں مشہ بروم پِیک کی چوٹی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ 

    آگے مچلو کا گاؤں آباد ہے۔ مچلو، سکردو سے پرے خپلو سے آگے، دریائے شیوک کے کنارے کہ جو موت کا دریا ہے ایک دور دراز بسا گھنے اخروٹ اور لمبے پاپولر کے درختوں کی چھاؤں میں ٹھنڈا ٹھنڈا گاؤں. یاک اور زمو، دودھ اور لسی، ٹراؤٹ اور ابلے آلو، ہنستے مسکراتے بلتی لوگ، لکڑیاں چنتی عورتیں اور بچے، ٹولیوں میں نیلگوں آسمان سے گزرتے بادل، سامنے نظر آتی مشہ بروم کی چوٹی، سکون سے بہتا شیوک دریا، پہاڑ سے نکلتا چشمہ، پرانی لکڑی سے بنی دیده زیب مسجد، چھوٹی چھوٹی دکانیں، مچلو کا سب کچھ یاد رہ جاتا ہے۔ گانچھے کا حسن تصویروں اور لفظوں میں سمونا ناممکن ہے۔ ایک عرصے تک آوارہ گردی کر کے بھی جب یاد آنے لگتا ہے تو دل سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ دل کرتا ہے کہ محسن نقوی کا شعر مجھ پر صادق آ جائے 

    میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہو گا

    !میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی

    Initially published on DAWN Urdu

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    2 COMMENTS

    Leave a Reply