ہر ہفتے ڈھائی گھنٹے سے زیادہ جوگنگ نقصان دہ

ہر ہفتے ڈھائی گھنٹے سے زیادہ جوگنگ نقصان دہ

    by -
    1 84

    یہ درست ہے کہ ورزش اور کھیل کے انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کس حد تک ورزش صحت مند ہوتی ہے؟ نئی تحقیق کے مطابق ہر ہفتے ڈھائی گھنٹے سے زیادہ جوگنگ کا فائدے کے بجائے نقصان ہوتا ہے۔

    دو ہزار تین سے لے کر اب تک گزشتہ قریب بارہ برسوں میں جرمنی میں قائم ہزاروں فٹنس کلبوں کے ارکان کی تعداد دوگنا ہو کر نو ملین سے زائد ہو چکی ہے۔ لیکن اس حقیقت کا ضرورت سے زیادہ کھیل اور اس کے طبیّ نقصانات سے کیا تعلق ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے قدیم یونان میں قریب ڈھائی ہزار سال قبل پیش آنے والا ایک واقعہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    فائی ڈِپّی ڈِیس قدیم یونان کا ایک ایسا مشہور ایتھلیٹ تھا جو ایتھنز کی میراتھن میں حصہ لیا کرتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں جب یونانی فوج کو ایرانی دستوں کے خلاف فتح حاصل ہوئی، تو یہ خبر ایتھنز پہنچانے کے لیے اس نامور ایتھلیٹ کو دوڑ کر قریب 40 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑا۔ اس نے یہ خبر ایتھنز پہنچا تو دی لیکن اس دوران وہ اتنا نڈھال ہو چکا تھا کہ وہ یکدم زمین پر گرا اور انتقال کر گیا۔

    قدیم یونان میں ہزاروں سال پہلے پیش آنے والے اس واقعے کی آج تاریخی حوالے سے تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ لیکن اسی سلسلے میں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کی یونیورسٹی کے ایک حالیہ تحقیقی مطالعے کے نتائج اعداد و شمار کی بنیاد پر بہرحال قابل یقین ہیں۔ اس مطالعے کے نتائج کے مطابق جوگنگ فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ بہت زیادہ جوگنگ کی جائے تو اس کے کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی کے اس مطالعے میں 1098 جوگرز اور 3950 ایسے افراد نے حصہ لیا، جو نہ تو جوگنگ کرتے تھے اور نہ ہی سرگرمی سے کسی جسمانی کھیل میں حصہ لیتے تھے۔ اس مطالعے کے آغاز پر پانچ ہزار سے زائد یہ تمام افراد صحت مند تھے۔ اب 12 سال بعد ماہرین نے اپنی ریسرچ کا ایک میزانیہ تیار کیا ہے۔

    نتیجہ یہ نکلا کہ بہت زیادہ جوگنگ کرنے والے کھلاڑیوں میں شرحء اموات تقریباﹰ اتنی ہی زیادہ رہی جتنی وہ جوگنگ نہ کرنے والے افراد میں دیکھی گئی تھی۔ اس کے برعکس سب سے کم شرحء اموات ایسے زیر مطالعہ افراد میں ریکارڈ کی گئی، جو ہر ہفتے ڈھائی گھنٹے یا اس سے کم وقت کے لیے جوگنگ کرتے تھے۔

    کئی برسوں تک جرمنی کی قومی ایتھلیٹکس ٹیم کے ڈاکٹر کے فرائض انجام دینے والے اور 2010ء سے جرمن اولمپک ٹیم کے معالج چلے آ رہے پروفیسر ڈاکٹر بیرنڈ وولفارتھ بھی ان نتائج کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی بنیادی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تین سے چار گھنٹے تک کی ورزش کا مشورہ ہی دیتے ہیں۔

    پروفیسر بیرنڈ وولفارتھ کہتے ہیں، ’’اس سے بھی مراد تین چار گھنٹے کی تھکا دینے والی وہ ورزش نہیں ہے جو کسی بھی انسان کو مکمل طور پر نڈھال کردے بلکہ کھیلوں کی ایسی اضافی سرگرمیوں میں سے اگر جوگنگ جیسی مکمل ورزش کے لیے وقت نکالا جائے، تو وہ بھی قریب دو سے ڈھائی گھنٹے فی ہفتہ ہی بنتا ہے۔‘‘

    Title image source: www.globerunner.org
    Article Source: www.dw.de/urdu

    1 COMMENT

    1. Excellent weblog here! Also your site quite a bit up fast!
      What host are you the use of? Caan I am getting your assocjate link on your host?
      I desire my web site loaded up as faqst as yours lol

    Leave a Reply