ہم اور ہمارے گم شدہ ڈریگن

ہم اور ہمارے گم شدہ ڈریگن

    by -
    0 0

    کیا سچ مچ ڈریگن ہوتے ہیں؟
    اگر کوئی بچہ ہم  سے یہ سوال پوچھے تو شاید ہمارا  کا جواب ہو گا کہ نہیں ، بالکل نہیں۔ یہ تو بس خیالی کہانیوں میں ہوتے ہیں۔ بھلا ڈریگنز کا حقیقت سے کیا لینا دینا؟
    یہ بات صحیح بھی معلوم ہوتی ہے کیونکہ بچوں کی ٹھیک ٹھیک تربیت کے لیے ضروری ہے کہ ہم انہیں حقیقت پسند بنائیں، انہیں یہ سکھائیں کہ جو ہم دیکھ سکتے ہیں وہی سچ ہے اور باقی سب وہم ہے، خیال ہے، کہانی ہے یا شاید بالکل جھوٹ۔
    لیکن والٹ ڈزنی کی نئی فلم ’پیٹس ڈریگن‘ اس بات سے اتفاق نہیں کرتی۔
    پیٹ دو برس کا لڑکا ہے جو کارحادثے کے بعدایک خطرناک جنگل میں اکیلا رہ گیا ہے۔
    وہاں پیٹ کی ملاقات ایک ایسے ڈریگن سے ہوتی ہے جو خود بھی اپنے خاندان سے بچھڑ چکا ہے۔
    دونوں کی دوستی ہو جاتی ہے اور یوں چھ برس بیت جاتے ہیں۔
    پیٹ کا ڈریگن اس کے لیے سب کچھ ہے۔ ماں ، باپ، بھائی ، بہن ، دوست سب کچھ۔
    جنگل کے پاس ہی ایک قصبے میں رہنے والا بوڑھا میچم قصبے کے بچوں کو ایک ایسے ڈریگن کی کہانیاں سناتا ہے جسے اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے لیکن قصبے والے یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ کہانیاں سنا کرتوجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
    میچم کا کردارمنجھے ہوئے اداکار رابرٹ ریڈ فورڈ نے نبھایا ہے۔
    میچم کی بیٹی اور نواسی کسی نہ کسی طرح پیٹ سے ملتے ہیں اور اسے اپنے گھر لے آتے ہیں۔
    فلم میں ڈریگن اور پیٹ کی جدائی کو بہت جذباتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
    اپنی مرضی سے خود کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل کرنے والا ڈریگن بھی سمجھ جاتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے معاشرے میں ’انسان‘ کے علاوہ کسی اور کو رہنے کی اجازت نہیں خواہ اس نے کسی انسان کو مرنے سے کیوں نہ بچا لیا ہو۔
    رابرٹ ریڈ فورڈ کے مکالمے سات سے 10دس سال کے بچوں کے لیے بنائی جانے والی اس فلم کی جان ہیں۔
    ان کا یہ کہنا بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ اپنی تربیت کے مطابق چیزوں کو قبول یا رد کرنے کی عادت ہمیں زندگی کےجادوئی پہلوؤں کو دیکھنے سے محروم کر دیتی ہے۔
    پیٹ کا ڈریگن اس ان دیکھے سچ کی علامت ہےجوانسان کے بنائے ہوئے شہروں اور قصبوں میں نہیں بستا بلکہ وہ صرف فطرت کے ساتھ ہی زندہ رہ سکتا ہے۔
    میرے خیال میں پیٹس ڈریگن کا موضوع ہمارے معاشرے میں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے جہاں ہم اپنے بچوں کو صرف وہی تاریخ، اخلاقیات اور معاشرتی تعلیم دینے پر مصر ہیں جو ہمارے تئیں ’واحد سچ ‘ ہے۔
    یہاں پاکستان میں ہم بڑے تو اپنا اپنا ڈریگن کھو چکے ہیں لیکن شاید ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ کم از کم  ہمارے بچوں کے ڈریگنز کو یہ اجازت ہو کہ وہ ان کے تخیل کو نہ مرنے دیں۔
    پیٹس ڈریگن کے حوالے سے ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ اسے والٹ ڈزنی پروڈکشن نے ہی 1977ء میں بنایا تھا۔
    ڈیوڈ لاریز کی ڈائریکشن میں بننے والی اس ری میک سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہالی وڈ اپنی تمام خامیوں کےباوجود بچوں کے قصے کہانیوں سے جڑے جادوئی سچ کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔
    اس تھری ڈی فلم کی انیمیشن کمال کی ہے۔ ساؤنڈ افیکٹ بھی بہت عمدہ ہیں اورفلم دیکھتے ہوئے آپ خود کو سچ مچ ایک گھنے جنگل میں موجود پاتے ہیں۔
    فلم کا میوزک  ڈینیل ہارٹ نے دیا ہے اور ایک دور دراز قصبے کے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے ’کنٹری میوزک‘ کی صنف میں دلوں کو چھو جانے والی موسیقی ترتیب دی ہے۔
    اگرچہ ڈیوڈلاریز نے پیٹس ڈریگن  بچوں کے لیے بنائی ہے لیکن میرے خیال میں بڑوں کو بھی یہ فلم دیکھنی چاہیے کیونکہ یہ فلم دیکھنے کے بعد انہیں بچوں کے اس سوال کا جواب دینے میں بہت آسانی ہوگی کہ کیا سچ مچ ڈریگنز ہوتے ہیں؟

    NO COMMENTS

    Leave a Reply