یادوں کے دلکش پرندے

یادوں کے دلکش پرندے

    by -
    0 0

    دھیان کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے یاد کے پرندے جب پروازکرتے ہیں تو دل کا آسمان بانہیں کھول کر ان کا استقبال کرتا ہے۔ میرے دھیان میں بھی ان دنوں یاد کا ایک ایسا ہی پرندہ آن بیٹھا ہے، جسے ذہن سے محو ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا۔ چند برس پہلے کی بات ہے مری کے مال روڈ پر کشمیر پوائنٹ کی طرف چلتے چلتے میں تھک کر روڈ سائیڈ پر لگے ایک بینچ پر بیٹھ گیا تھا۔ یہ سرد اور گیلا دن تھا۔ بارش کچھ دیر پہلے سب کچھ دھو کر ختم ہو چکی تھی اور ہوا تیز چل رہی تھی۔ میرے سامنے سے کئی لوگ اپنی باتوں میں مگن گزرتے جاتے تھے۔ میں نے ایک بابا جی اور اماں جی کو دیکھا جو نیچے سے اوپر کی طرف چلے آ رہے تھے اور سانس پھولی ہوئی تھی۔ ان کے پیچھے دو بچے جن میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھے اپنے پاؤں گھسیٹتے چلتے تھے۔ دونوں بچوں کے چلنے کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی معذور یا ٹانگوں سے کمزور انسان اپنے پاؤں کو کھینچ کر چلتا ہے۔

    قریب تک مجھے یقین ہو چکا تھا کہ دونوں بچے ابنارمل ہیں۔ کچھ ان کے چہروں کے نقوش بتا رہے تھے کچھ ان کی عجیب حرکتیں۔ اتفاق سے میرے بالکل سامنے پہنچ کر بابا جی اور اماں دونوں میرے بینچ پر بائیں ہاتھ بیٹھ گئے۔ دونوں کافی تھک چکے تھے۔ بچے بینچ کے پیچھے جا کر ہماری پشت پر کھڑے ہو گئے۔ کچھ منٹ سانس درست کرنے کے بعد بابا جی مجھ سے بات کرنے لگ گئے۔ موسم اور مری کی باتوں کے بعد میں نے بابا جی سے بچوں کا پوچھا۔ مجھے لگتا تھا کہ یہ دو بچے جو ساتھ ہیں یہ ان کے پوتے پوتی ہیں میں اس وقت حیران ہُوا جب بابا جی نے بتایا کہ یہ ان کے اپنے بچے ہیں۔ شادی کے بیس سال بعد دونوں جڑواں پیدا ہوئے اور دونوں کی دماغی حالت نارمل نہیں۔ دونوں اسپیشل بچوں کے سکول جاتے ہیں۔

    گفتگو جاری رہی بابا جی اپنے بارے میں بتاتے رہے میرا ذہن ان بچوں کی طرف اٹکا ہُوا تھا۔ بابا جی نے بتایا کہ ان کی ماں (جو ساتھ ہی بیٹھی تھیں) ان کو سنبھالتی ہے۔ کبھی کبھی یہ سنبھالے نہیں جاتے۔ ان کو دورہ پڑتا ہے تو قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ لیکن اپنی اولاد ہے جیسی بھی ہے ان کا کیا کریں۔ بابا جی کوئی چھوٹا سا کام کرتے تھے جس سے گزر اوقات مشکل سے ہی ہو پاتی تھی انہوں نے بتایا کہ ان دونوں نے سکول میں کسی سے سن کر ضد لگا دی کہ مری جانا ہے۔ میں نے ایک ماہ لگا کر پیسے جمع کیے اور ان کو لے آیا۔ سوچا اسی بہانے ہم بھی مری دیکھ لیں گے (یہ کہتے ہوئے انہوں نے ماں جی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہنس پڑے)۔ پیچھے کھڑی ان کی بچی نے اچانک بابا جی کی ٹوپی اتاری اور نیچے کھائی میں پھینک دی اور دونوں بچے اونچا اونچا ہنسنے لگے۔ ماں جی اُٹھیں دونوں کو اپنے ساتھ لگا کر چپ کرایا۔ بابا جی نے بچوں کو پیار کیا۔ میں نے ہاتھ گاڑی رکوائی اور بچوں کو ماں جی کے ساتھ اس میں بٹھا کر جی پی او چوک کی طرف روانہ کر دیا۔

    کبھی کبھی میرے ذہن میں یہ فیملی آتی ہے تو دل دکھ جاتا ہے۔ قدرت انسانوں کا کیسا کیسا امتحان لیتی ہے۔ بابا جی اور ماں جی ابھی میرے دھیان کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے یادوں کے ایسے ہی دو دلکش پرندے ہیں۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply