سوئی وہار: بدھ مت کی معبد گاہ

سوئی وہار: بدھ مت کی معبد گاہ

    by -
    0 0

    یہاں کبھی دنیا کے قدیم ترین مذہب بدھ مت کے دور میں راجہ کنشکا کے دورِ حکومت میں بدھ مذہب کی معبد گاہ یا اسٹوپا بھی موجود تھا

    بہاولپور سے رحیم یار خان جاتے ہو ئے مرکزی شاہراہ پر بہاولپور سے تقریبََا12 کلو میٹر کے فاصلے پر مسافر خانے کے نزدیک سمہ سٹہ ریلوے اسٹیشن کے جنوب میں ایک چھوٹاسا قصبہ’ گلن دی ہٹی‘ کے نام سے آبادہے۔ مسا فر قومی شاہراہ پر ایک لمحہ بھی یہاں رُکے بغیرگزر جاتے ہیں، اوربہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ یہاں کبھی دنیا کے قدیم ترین مذہب بدھ مت کے دور میں راجہ کنشکا کے دورِ حکومت میں بدھ مذہب کی معبد گاہ یا اسٹوپا بھی موجود تھا اور اُسوقت یہ مشہور ترین مقام ہوتا تھا لیکن گردشِ زمانہ یا گردشِ حوادث کے باعث اب صرف آثار باقی رہ گئے ہیں۔ وہ جگہ ماضی میں بدھ مت مذہب کی معروف عبادت گاہ جو اپنے زمانے کی اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کی درس گاہ تھی اب وہاں صرف مٹی کا ایک مینار اورگردونواح میں قبرستان رہ گیا ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ یہ اسٹوپا بدھ مت مذہب کے زمانے کی یونیورسٹی اور ایک عظیم الشان عبادت گاہ کی اب صرف یادگار کے طور پر بچ COPPER PLATE PRESERVE IN INDIAN MUSEIUM KOLKAATAگیا ہے۔

     ان آثار قدیمہ کو پہلی مرتبہ 1870 میں دریافت کیا گیا تھااور اس وقت ان کی اونچائی زمین سے تقریبََا 53 فٹ بلند تھی اور حوادثِ زمانہ کے باعث 1904ء یعنی صرف34 سال کے عرصے میں اسکی اُونچائی  45فٹ رہ گئی تھی۔ بعد ازاں اس کا 20 فٹ حصہّ ریت کے ٹیلے میں دب گیا اور ا ب صرف 25 فٹ بلند حصہّ زمین سے باہر نظر آتا ہے۔ اس کا ڈھانچہ ایک گول ٹاور کی طرح ہے جو بڑے سائز کی اینٹوں کی مددسے بنا ہوا ہے۔ اسٹوپا کے فنِ تعمیر اور یہاں سے نکالی جانے والی ایک پلیٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ بدھ مت کے دور کی یادگار ہے۔ پلیٹ پر بدھ مت دور کی عبارت کندہ ہے۔

       یہ ٹاور نما ڈھانچہ دراصل بدھ مت کے اسٹوپا کے آثار ہیں جو شہنشاہ کنشکا اعظم کے دور حکومت کے

    گیارہویں Sui Vehar pic oneسال میں تعمیر ہوا تھا۔ یہ اسٹوپا مٹی کی اینٹوں سے تعمیر ہوا تھا تاہم اس  بنیادوں میں پکی ہوئی اینٹیں استعمال کی گئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس اسٹوپا کی بنیاد ایک مربع ڈھانچے پر تھی جس کے اوپر گولائی میں یہ اسٹوپا تعمیر کیا گیااور اس کا انڈہ نما گنبد پر اختتام ہوتا تھا۔ جو اب حوادثِ زمانہ کے باعث اپنے آثار کھو چکا ہے۔سٹوپا کے مرکز میں کھدائی کے دوران تقریبََا 70 برس قبل ایک تانبے کی پلیٹ ، چند سکے اور کچھ لوہے کے برتن ملے تھے۔ تانبے کی پلیٹ پرخروشتی kharoshthi)) زبان میں عبارت کندہ تھی جس کے ذریعے یہ معلوم ہوا تھا کہ یہ سٹوپا کب اور کس دور میں تعمیر ہوا تھا۔

    اس عبارت کے مطابق اس جگہ کا نام دمانہ وہارہ (Damana Vihara) تھا اور یہ ایک خاتون بدھ مت کی پیروکار بالا نندی ((Bala
     Nandiکی ملکیت تھی۔ اس خاتون نے اپنی والدہ بالا جیا (Bala jiya ( کے ساتھ مل کر اس سٹوپا کی تعمیر کروائی ،اور اس کو ناگا دتا(Naga Data)کی یاد میں تعمیر کرایا تھا جو دراصل سنکھیا(Sankhya)فلسفہ تعلیم کو فروغ دینے کے لئے اُس زمانے میں معروف تھا۔
    اور وہ خود اچاریہ دماتراتا (Acharya Damatrata) کا شاگرد تھا۔ اس سٹوپا کی تعمیر شہنشاہ کنشکا کے دورِ حکومت کے 11ویں سال میں ساسیوس(Sasios) کے مہینے کے 28ویں دن تعمیر مکمل ہوئی تھی۔اوریہ پلیٹ بھارت کے شہر کولکتہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

    NO COMMENTS

    Leave a Reply