شاہ رکن عالم کے مزار پر ایک اماں کی داستان

شاہ رکن عالم کے مزار پر ایک اماں کی داستان

    by -
    0 0
    سورج سر پر آن کھڑا تھا۔ ملتان شہر سردی میں بھی سورج کی تمازت سے جھلستا رہتا ہے۔ دھوپ میں چلتے ہوئے تپش محسوس ہوتی ہے۔ جب شاہ رکن عالم کے مزار پہنچا تو سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ لوگوں کا غیر معمولی ہجوم تھا۔ فقیر تھے، ملنگ تھے، مرید تھے اور عقیدت مند تھے۔ دربار کے اطراف کبوتر اترتے پھر رہے تھے۔ ہجوم سے الگ ہو کر میں نے ایک جگہ تلاش کی جہاں میرے اور دربار کے
    بیچ لوگوں کی آمد و رفت نہ آ سکے۔ کیمرا ٹرائی پوڈ پر لگا کر میں تصویریں لینے لگا۔
     
    کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ ایک اماں چلتی ہوئی آئیں اور دربار کے دروازہ پر آ کر بیٹھ گئیں۔ میں اب ان کے
    اُٹھ کر جانے کا انتظار کرنے لگا۔ اماں نے روٹیاں شاپر بیگ سے نکالیں اور ان کے ٹکرے ٹکرے کرنے لگی۔ میں دیکھتا رہا۔ اماں آہستہ آہستہ روٹیوں کے ٹکرے کرتے رہی۔ جب مجھے لگا کہ اماں جلدی اٹھ کر جانے والی نہیں تو میں ان کو اٹھانے ان کے پاس چلا گیا کہ بات کر کے سمجھاؤں اماں کو۔
     
    پاس جا کر میں نے کھڑے کھڑے پوچھا، “اماں کیا کرنا ہے ان روٹیوں کے ٹکرے کر کے؟ کبوتروں کو ڈالنے ہیں؟” اماں نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولی، “نئیں پُتر کبوتروں کو تو بہت لوگ دانہ ڈالتے ہیں یہاں، دانہ خرید کر ڈالتے ہیں دربار پر آنے والے، کبوتروں کو تو ضرورت سے زیادہ مل جاتا ہے۔ میں یہ روٹیوں کے ٹکرے کر کے کوؤں کو ڈالتی ہوں کیونکہ کوے کبوتروں والا دانہ نہیں کھاتے اور یہاں کوؤں کی کوئی پراہ نہیں کرتا۔ وہ صرف روٹیوں کے ٹکرے کھاتے ہیں۔ پُتر کوے بھی تو اللہ کی مخلوق ہیں ناں”؟

    مجھے سن کر حیرت ہوئی کہ اماں سب سے الگ تھلگ سوچتی ہے اس سارے ہجوم میں۔ میں نے پوچھا “اماں تم کیا کرتی ہو؟ یہاں دربار پر بس روٹیاں ڈالنے آتی ہو کوؤں کو؟” وہ سُن کر بولی، “نئیں پُتر میں پندرہ سالوں سے یہاں رہ رہی ہوں۔ میں مانگنے والی نہیں ہوں۔ بس دربار سے لنگر مل جاتا ہے وہ کھا لیتی ہوں اور ادھر ہی سو جاتی ہوں۔ کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا مگر لوگ مجھے فقیر سمجھ کر میری جھولی میں پیسے ڈال جاتے ہیں تو مجھے غصہ آتا ہے۔ اس لیے میں لوگوں سے ہٹ کر الگ جگہ تلاش کرتی ہوں جہاں کوئی نہ دیکھنے والا ہو۔” یہ سُن کر میں اماں کے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے پوچھا، “اماں یہاں سارا دن کیا کرتی ہو پھر؟ گھر بار کوئی نہیں تمہارا؟” کچھ دیر وہ چپ رہی پھر اس نے پلو سے چادر کو پکڑ کر ڈبڈباتی آنکھیں پونچھیں اور بولی، “پُتر میں بال بچوں والی ہوں، میرے پیٹ سے اللہ نے مجھے دو بیٹیاں اور دو بیٹے دیے۔ وہ سب گھر بار والے ہیں۔ مجھے انہوں نے گھر سے پندرہ سال پہلے نکال دیا تھا کیونکہ وہ گھر میں ٹی وی پر ناچ گانا دیکھتے تھے۔ ان کے بچے مجھے تنگ کرتے تھے۔ مجھے یہ ماحول پسند نہیں تھا تو میں ان کو ٹوکتی تھی۔ میری بہوؤں نے مجھے گھر سے نکال دیا کہ جاؤ اپنی بیٹیوں کے پاس ہم یہاں اپنی مرضی سے جو دل کرے گا وہی کریں گے۔ میں ایک بیٹی کے گھر گئی تو اس کے شوہر نے مجھے نکال دیا۔ دوسری کے گھر گئی تو وہاں کا ماحول بھی ایسا ہی ملا، مجھے اس نے
     بھی نکال دیا۔ اب پندرہ سالوں سے شاہ رکن عالم کا دربار ہی میرا گھر ہے”۔
    یہ سن کر مجھے چپ لگ گئی۔ تھوڑے وقفے کے بعد میں بولا، “اماں تم کو ماحول کیوں نہیں پسند آیا؟ آجکل ہر گھر میں ٹی وی، گانا وغیرہ چلتا ہے۔ اس میں اتنا برا منانے والی کیا بات تھی؟ تم برداشت کر لیتی۔” اماں نے نظریں اُٹھا کر دیکھا اور بولی، “پُتر میں ساری زندگی قرآن پڑھتی آئی ہوں، مجھے آدھا قرآن پڑھ پڑھ کی حفظ ہو چکا ہے۔ میرے ماں باپ کے گھر کا ماحول بہت پاکیزہ تھا۔ میرا شوہر بھی نیک آدمی تھا مگر وہ مر گیا اور میری اولاد بن باپ کے بگڑتی گئی”۔

     

    اماں نے آنسو پھر اپنی چادر سے پونچھے تو میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہاں بیٹھنے کی ہمت مجھ میں نہیں رہی تھی۔ میں اس کی مالی مدد بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ اماں غصہ کر جائے گی۔ میں نے کیمرا سمیٹا اور تیز چلتے دربار سے باہر نکل گیا۔ سورج کو ایک بدلی نے ڈھانپ لیا تھا۔ چلتے چلتے مُڑ کر ایک نظر دربار کو دیکھا تو آسمان کبوتروں کے اڑتے غولوں سے بھرا پڑا تھا۔ وہیں کہیں کوؤں کا جھنڈ تھا جو دربار کے احاطے کے عین اسی جگہ کے اوپر منڈلا رہا تھا جہاں اماں بیٹھی تھی۔
     
     

     

     
     
     
    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply