تاتو گاؤں کا بے یار ومددگار اسکول

تاتو گاؤں کا بے یار ومددگار اسکول

    by -
    0 0
    تاتو گاؤں

    رائے کوٹ پل سے ٹیک آف ہوئے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا۔ جیپ پتھروں سے ٹکراتی ہچکولے اور بل کھاتی اوپر ہی اوپر چڑھتی جا رہی تھی۔ اس کی منزل فیری میڈوز کے راستے میں پڑنے والا گاوں تاتو تھا جہاں مجھے پرائمری اسکول کے وزٹ پر جانا تھا۔ فیری میڈوز کا راستہ برف کی وجہ سے بند پڑا تھا اور ککر جمنے کی وجہ سے پیدل چلنا ناممکن تھا سو میری منزل بس تاتو گاوں کے پرائمری اسکول تک تھی جس کو یونیورسٹی آف لاہور کے ریکٹر ناصر محمود صاحب نے ذاتی طور پر تعمیر کروایا ہے تا کہ کوہستان کی اس بستی کے بچے پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جائیں۔ تاتو گاؤں میں جو سرکاری اسکول تھا وہ 2002 کے زلزلے میں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا جس کے بعد سرکار نے وہاں اسکول تعمیر ہی نہیں کیا تھا۔

    رائے کوٹ سے ٹیک آف ہوئے جب آدھا گھنٹہ ہو چکا تو ایک موڑ مڑتے ہی سامنے پتھریلی سڑک پر ایک جہازی سائز کا پتھر پہاڑ سے سرک کر عین درمیان میں آن پڑا تھا۔ جیپ ڈرائیور نے دیکھتے ہی کہا “بٹ کدھر سے آ گیا”۔ میں نے پوچھا “بٹ کون ہے ادھر تو نہ بندہ نہ بندے کی ذات ؟”۔ ڈرائیور کے لبوں پر مسکان پھیلی اور بولا ” صاحب آپ کے علاقے میں بٹ ایک ذات ہے مگر ہم یہاں اپنی زبان میں “بٹ” پتھر کو کہتے ہیں”۔ یہ سن کر مجھے میرے دو بٹ دوست یاد آ گئے تو مجھے بھی ہنسی آ گئی میں نے ڈرائیور کو کہا ” یار، جیسے بٹ مجھے ملے ہیں وہ بھی پتھر ہی ہیں اور بالکل اسی سائز کے یعنی حجم میں زیادہ اور عقل سے کم”۔

    بٹ کو سڑک سے لڑھکا کر جیپ آگے بڑھی۔ تاتو گاؤں کی مٹی اس کے پہئیوں تلے آ کر چرچرائی۔ بریک لگی۔ اسکول پہنچ کر دیکھا تو اسکول میں بچے لبالب بھرے ہوئے تھے۔ یہ غریب چرواہوں کے بچے تھے۔ اسکول بنانا کار خیر ہے اور اس کو چلانا عبادت ، چلانے والوں نے میری تواضع میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ میں ان کے اخلاق اور مہمان نوازی سے شرمندہ ہوتا رہا۔ کوہستانی مجھ سے باتیں کرتے رہے۔ اسکول میں چھٹی ہوئی۔ بچوں کی دوڑیں لگیں۔ نانگا پربت پر سائے لمبا ہونا شروع ہوئے۔ دن ڈھلنے لگا اور میں اسکول کی حدود میں بیٹھا نانگاپربت کو دیکھتا دھوپ سینکتا رہا۔ 

    اسکول کے جو مسائل ہیں وہ میں تفصیل سے ڈان کے کالم میں لکھوں گا کہ یہ اسکول کیسے بنا۔ کس کی محنت ہے کیا مشن ہے اور کیسے محکمہ ایجوکیشن اور ڈی سی او دیامر اس سلسلے میں کوئی تعاون نہیں کر رہے۔ اسکول میں ایک سائنس ٹیچر کی ضرورت ہے مگر بیوروکریسی میں بیٹھا کوئی افسر اس ایشو پر کان نہیں دھڑ رہا۔ میں گلگت بلتستان کے محکمہ ایجوکیشن کے “بابوؤں” کو بھی ذاتی طور پر متوجہ کروں گا اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے بھی نوٹس میں لاوں گا ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی اس ایشو کو اجاگر کروں گا۔ یہ مجھ پر ادھار رہا۔ 

    کوہستانیوں کی مہمان نوازی کا شکریہ۔
    گلگت بلتستان پائیندہ باد۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply