محبت کرنے والوں کا ٹھکانا

محبت کرنے والوں کا ٹھکانا

    by -
    0 0

    جان لینن نے کہا تھا، “ہم تشدد دن دیہاڑے کرتے ہیں لیکن محبت چھپ چھپ کر کرتے ہیں”۔ 

    ناٹکو کی بس پنڈی سے چل پڑی تھی۔ یہ گرمی کے دن تھے اور ناٹکو کا ائیر کنڈیشنڈ بھی کام نہیں کرتا تھا۔ ایبٹ آباد پہنچ کر ایک کوھستانی نوجوان کاکول اکیڈمی سٹاب سے بس میں داخل ھُوا۔ اونچا لمبا اور گورا چٹا ھینڈ سم لڑکا تھا۔ میرے ساتھ والی سیٹ خالی پڑی تھی وھاں آ کر وہ بیٹھ گیا۔سفر شروع ھُوا تو اس نے باتیں کرنی شروع کر دیں۔ داسو کوھستان کا رھنے والا تھا ، آرمی میں جانے کا شوق تھا سو کاکول اکیڈمی میں زیر تربیت تھا۔ اس نے مجھے کوھستان کی جھیلوں ، لوگوں ، ثقافت کی باتیں سنائیں جو میں بڑے شوق سے سنتا تھا۔ اپنے کوھستانی معاشرے وہ شدید بیزار تھا۔ اس نے مجھے اپنی محبت کے بارے میں بھی بتایا کہ کیسے وہ اس لڑکی سے پہاڑ پار کر کے ملنے جاتا ھے جو کہ دشمن قبائل سے تعلق رکھتی ھے جس سے اس کو محبت ھو گئی تھی۔ وہ کیسے راتوں کو نکلتا اور کئی کلومیٹر چل کر اس کے علاقے میں چوری چھُپے داخل ھوتا۔ قبیلوں میں لڑائی پشتوں سے چلی آ رھی تھی اور وہ اپنی جان کا رسک مزے سے لیتا تھا اور ساری باتیں ہنس ہنس کے سناتا جاتا تھا۔ باتوں باتوں میں رات بیت گئی اور صبح صادق گاڑی داسو پہنچ گئی۔ ھم نے آپس میں موبائل نمبروں کو تبادلہ کیا اور میں گلگت کی طرف سفر پر روانہ ھو گیا۔ 

    اپنے سفر سے واپس آ کر اور روزمرہ کی مصروفیت میں ڈھل کر میں اس نوجوان کو بھول چُکا تھا۔ ستمبر کا مہینہ ھو گا کہ ایک دوپہر مجھے اس لڑکے کے موبائل سے کال آنے لگ گئی۔ میں نے فون اٹینڈ کیا تو دوسری طرف اُس کا بھائی تھا اس نے مجھے بتایا کہ عمر کو قتل کر دیا گیا ھے میں اس کے موبائل سے اس کے دوستوں کو کال کر کے بتا رھا ھوں آپ کا نمبر بھی اس کے موبائل میں تھا، اس نے بتایا کہ دوسرے قبیلے والوں نے عمر اور لڑکی دونوں کو قتل کر دیا ھے۔ فون بند کر کے میں سوچنے لگا کہ آخر کیوں؟ اور کئی دن تک مجھے اس کی باتیں یاد آتی رھیں۔

    اکتوبر کے آخری دن تھے اور میں پھر گلگت بلتستان کی طرف جا رھا تھا۔ گاڑی داسو میں رُکی۔ داسو کانٹینینٹل ھوٹل میں ناشتہ کرتے ھوئے میرے ذھن میں عمر آیا میں نے اسی نمبر پر کال کی اور ایک دو رنگ کے بعد میں نے یہ سوچ کے کال کاٹ دی کہ میں اس کے بھائی سے کیا کہوں۔ کچھ منٹوں بعد مجھے اسی کے نمبر سے کال آنے لگی۔ اس کے بھائی نے مجھ سے پوچھا آپ کہاں ھو؟ میرا داسو آمد کے بارے جان کر وہ ھوٹل آ گیا اور بولا آپ گھر چلو یہ ساتھ ھی گھر ھے، گاڑیاں یہاں دو گھنٹے رکیں گی میں ڈرائیور کو بتا دیتا ھوں کوئی مسئلہ نہیں ھو گا وغیرہ وغیرہ۔ میں نے پہلے بہت انکار کیا لیکن اس کی سادہ دلی اور خلوص دیکھ کر میں نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کر لیا

    اس کے گھر میں اس کے والد صاحب باریش بزرگ تھے۔ افسوس کے ماحول میں میں نے اپنے بارے بتایا اور بتایا کہ کیسے میری ملاقات عمر سے ھوئی تھی بس میں۔ اس کے والد صاحب بولے، “بڑی بے دردی سے مارا اس کو، وہ فوجی بننا چاھتا تھا ہمیں نہیں پتا تھا کہ وہ اس علاقے میں کسی کو ملنے جاتا ھے، ھم نے اللہ کے نام پر اس کا خون معاف کر دیا ھے کہ ھم کسی لڑائی میں نہیں پڑنا چاھتا مزید جو ھُوا سو ھُوا غلطی ھمارے لڑکے کی ھی تھی” ۔ میں وھاں سے رخصت ھوا بس میں بیٹھا اور سفر پھر شروع ھو گیا۔ 

    نیچے انڈس بہہ رھا تھا میں اس کو دیکھ کے سوچتا رھا کہ یہ کیا غلطی تھی جس کی سزا موت تھی۔ پاک سر زمین پر محبت کرنا اور پھر شادی کی نیت سے محبت کرنا نا قابل معافی جرم کیوں ھے۔ اگلا سارا رستہ عجیب اور اداس سوچوں میں گزر گیا۔ گلگت اڈے پر اُترا۔ وھاں ایک اخبار فروش کا موٹر سائیکل پارک کھڑا تھا جس کے پیچھے رکھے ھوئے اخباروں میں کے ٹو اخبار کی شہ سرخی کے نیچے ایک خبر بڑی واضح نظر آ رھی تھی، “شیر قلعہ میں پسند کی شادی کرنے پر لڑکا لڑکی قتل” ۔ میں نے سگریٹ لگایا اور نگر کی طرف روانہ ھو گیا کہ راکا پوشی کے سائے میں ھی محبت کرنے والوں کا ٹھکانا ھے جو اس کے محبت میں دنیا بھر سے چلے آتے ھیں

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply