…بچپن اچھا نہ جوانی

…بچپن اچھا نہ جوانی

    by -
    0 255
    Picture by: S.M. Bukhari

    بچپن کی باتیں سب کرتے ہیں اور بڑے فخر سے کرتے ہیں لیکن یقین مانیں مجھے اپنا بچپن بکواس لگتا ہے۔ بچپن کی اس سے زیادہ خرابی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو لڑکی آپ کو اچھی لگتی ہو وہی آپ سے پوچھے، “تمہارے قاری صاحب کتنے بجے گھر پڑھانے آتے ہیں؟ کئی دنوں سے دیکھے نہیں۔” (قاری صاحب نوجوان سے تھے)

    بچپن کا یہی نقصان کیا کم ہے کہ آپ اپنی مرضی سے نہا بھی نہیں سکتے۔ 

    بچپن میں اسکول میں ماسٹر کی کُٹائی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچہ پابندی سے اسکول جانے لگتا ہے۔ جب میں اسکول میں پڑھا کرتا تھا تو اتنا نکما ہوا کرتا تھا کہ غلطی سے کسی دن ہوم ورک کر کے بھی چلا جاتا تو ماسٹر صاحب حسب معمول پورے یقین کے ساتھ عادتا چھ سات ڈنڈے لگا دیا کرتے تھے۔

    ماسٹر صاحب خوشخطی کے بہت مداح تھے۔۔۔ حکم دیتے کہ اچھی سی بسم اللہ لکھو۔۔۔ ذرا سی بھی خوشخط نہ ہوتی تو بسم اللہ کہتے ہوئے میز پر جہاز بنا لیا کرتے تھے۔

    ابا جی کی تو مار کا جواب نہیں، طبیعت کی پاکیزگی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہمیشہ باوضو ہو کر مارتے تھے۔ حالانکہ انہیں مارنے کے بعد وضو کرنا چاہیے تھا۔

    اب بتائیے بچپن کیسے اچھا ہو گیا۔۔۔ میں کہتا ہوں بچپن اچھا نہ جوانی، صرف بڑھاپا اچھا۔ جب آپ ضد بھی کریں تو کوئی آپ پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ آپ لاکھ گلاس توڑیں، گند پھیلائیں، زیادہ سے زیادہ کوئی طعنہ ہی مارے گا۔۔۔ اس کی خیر ہے بندہ ڈھیٹ ہونا چاہیے۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply