سیاہ حلقے ختم کرنے کے 6 گھریلو ٹوٹکے

سیاہ حلقے ختم کرنے کے 6 گھریلو ٹوٹکے

    by -
    0 109

    آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقوں (Dark Circles) سے خواتین اور مرد دونوں ہی متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں تناؤ، نیند کی کمی، ہورمونل تبدیلیاں شامل ہیں۔ یہاں ہم آپ کو چند گھریلو ٹوٹکے بتارہے ہیں جس سے ان حلقوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

    ٹماٹر

    ٹماٹر سیاہ حلقوں سے نجات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے کیوں کہ یہ قدرتی طور پر نہ صرف انہیں ختم کرتا ہے بلکہ آپ کی جلد کو ملائم بھی بناتا ہے۔ آپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ ایک چمچہ ٹماٹر جوس کو ایک چمچہ لیموں کے جوس میں ملاکر آنکھوں کے نیچے لگالیں اور اسے 10 منٹ تک لگے رہنے دیں۔ بعد میں اسے پانی سے صاف کرلیں۔ ایسا دن میں دو مرتبہ چند روز تک جاری رکھیں۔

    آلو

    آلوؤں کو چھیل کر ان کا جوس نکال لیں۔ پھر اس جوس میں روئی کے ٹکڑے کو بھگو کر آنکھوں کے نیچے رکھ دیں اور اس بات کو یقینی بنالیں کہ تمام سیاہ حصہ روئی سے ڈھکا ہوا ہو۔ بعد میں ٹھنڈے پانی سے اسے صاف کرلیں۔

    ٹی بیگز

    ایک ٹی بیگ (گرین ٹی بیگ ہو تو زیادہ بہتر ہے)کو پانی میں بھگو کر فرج میں رکھ دیں۔ بعد میں اسے اپنی آنکھوں پر رکھ دیں۔ اس عمل کو بار بار کرنے سے بہترین نتائج مل سکتے ہیں۔

    ٹھنڈا دودھ

    دودھ کے روزانہ کی بنیادوں پر استعمال سے نہ صرف آپ کی آنکھوں کے حلقے ختم ہوں گے بلکہ آپ کی جلد بھی بہتر ہوجائے گی۔ روئی کا ایک ٹکڑا لیجئے اور اسے ٹھنڈے دودھ کے ایک پیالے میں بگھودیں۔ اب اسے اپنی آنکھوں پر لگائیں اور اس بات کو یقینی بنالیں کہ تمام متاثرہ حصے پر یہ سہی طرح سے لگ جائے۔ تھوڑی دیر اسی طرح رکھیں اور پھر چہرے کو پانی سے صاف کرلیں۔

    اورینج جوس

    اس جوس میں چند قطرے گلیسرین کے ملالیں اور اسے حلقوں پر لگائیں۔ اس سے نہ صرف آپ کے حلقے ٹھیک ہوجائیں گے بلکہ آپ کی آنکھوں کی قدرتی چمک میں بھی اضافہ ہوگا۔

    یوگا

    آنکھوں کے حلقوں کی اہم وجوہات میں سے چند تناؤ، ڈپریشن اور مصروف طرز زندگی ہیں۔ کوئی بھی ٹوٹکہ اس وقت تک کام نہیں کرے گا جب تک آپ دماغی طور پر پرسکون نہ ہوں۔ اگر یوگا باقاعدگی سے سے کیا جائے تو نہ صرف اس سے آنکھوں کے نیچے حلقے درست ہوجائیں گے بلکہ آپ کو دماغی طور پر بھی سکون ملے گا۔

    SOURCE dawnnews.tv
    Unbreen Fatima
    Broadcast Journalist from Pakistan. Currently associated with DW as Freelance Correspondent. Several years of experience as a journalist in radio, newspaper, online and TV journalism.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply