پکوڑہ کے شیریں پکوڑے اور لازوال مہمان نوازی

پکوڑہ کے شیریں پکوڑے اور لازوال مہمان نوازی

    by -
    0 0
    Picture: S.M. Bukhari

    استور سے چلم جاتے راستے میں ایک گاؤں پڑتا ہے جس کا نام ہے “پکوڑہ” مرکزی سڑک کے اوپر ہی ایک چھوٹی سی دکان ہے “محمد حسین جنرل سٹور”۔ دکان پر پانی لینے رکا تو محمد حسین صاحب دکان سے باہر کرسی پر بیٹھے دھوپ سینک رہے تھے۔ گول مٹول چہرے پر گول مٹول عینک اور سفید بالوں والی خشخشی داڑھی والے بزرگ نے جب پانی کی بوتل نکال دی تو میں نے از رہ مزاق پوچھ لیا “چچا یہاں پکوڑہ میں پکوڑے نہیں ملیں گے کیا؟ ” ہنستا ہوا مخصوص شمالی اردو لہجے میں جواب آیا، “ملیں گا ۔۔۔ پنجاب سے آیا ہے؟ پکوڑیں کھائیں گا؟ ملیں گا ابھی بس دس منٹ بیٹھیں گا ادھر تو ملیں گا”

    میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نہیں چچا میں یونہی پوچھ رہا تھا گاڑی میں میری بیگم بیٹھی ہے تو دس منٹ ادھر نہیں رک سکتا مجھے آگے جانا ہے۔ محمد حسین نے بیسن والا شاپر پکڑتے ہوئے حکم دیا کہ ایسے کیسیں جائیں گا بیوی کو عورتوں میں چھوڑیں گا۔ ساتھ ہی گلی میں گھر ہے اس کا طبیعت فریش ہو جائیں گا دیہاتی گھر میں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی چچا نے گاڑی کے پاس جا کر بیگم کو بولا کہ چلو ہمارے گھر اب پکوڑیں کھا کر ہی جائیں گا۔

    بیگم عورتوں میں گھر کے اندر چلی گئی۔ اس کے پیچھے پیچھے بیسن والا شاپر بھی گھر میں چلا گیا اور میں چچا کے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ آدھ گھنٹا بیت گیا تو گھر سے پکوڑے ایک تھال میں برآمد ہوئے ۔۔ دکان کے باہر کرسی پر بیٹھے انہیں کھانے لگا تو بیگم بھی گھر سے باہر برآمد ہو گئی اور مجھے اشارے سے بلانے لگی۔ قریب گیا تو بولی ” انہیں کچھ دیں گے نہیں آپ ؟ “۔ میں نے برجستہ جواب دیا کہ میں انہیں کیا دوں؟ بولی ” اتنے تکلف سے انہوں نے مہمان نوازی کی پکوڑے چائے بنائی ان کے گھر چھوٹے بچے بچیاں ہیں جاتے ہوئے ان کو کچھ دے دیں اور کیا۔” میں نے بیگم کو پانچ سو روپے پکڑائے کہ ان میں تقسیم کر کے باہر آ جاو آگے بھی جانا ہے۔

    رخصت ہوتے چچا نے گلے ملتے ہوئے کہا یہ پکوڑہ تمہارا اپنا گھر ہے آج سے تم میرا بیٹا ہے جب آو یہاں آو سیدھا ۔ ہم غریب سہی پر دل کے غریب نہیں۔ عورتوں نے بیگم کو پیار دیا اور گاڑی چل پڑی۔ 

    گاڑی چلی تو میرے ڈرائیور نے ہنستے ہوئے کہا، “شاہ جی، پکوڑے مہنگے پڑ گئے آپ کو”۔ میں نے اسے بولا “استاد ! جس تکلف اور خلوص سے یہ محبت بھرے جذبات میں تیار ہوئے تھے ان کا قرض اتارتے عمر بیت جائے گی، تم نہیں سمجھو گے کہ ان لوگوں کے دل کتنے کشادہ اور خلوص بھرے ہوتے ہیں۔ اور یہ کیا گھاٹے کا سودا ہے کہ مجھے پانچ سو میں ایک گھر یہاں مل گیا اور نئے بنا لالچ کے رشتے”۔

    آگے چلم چوکی تھی اور اس کے پار حیرت بھرا میدان تھا۔ آسمان پر بادل چھانے لگے اور گاڑی میں بیٹھے ہم شمال میں ملی محبت کی پھوار میں بھیگتے رہے۔ پیچھے کہیں چچا محمد حسین راہ تکتا رہ گیا۔

    Syed Mehdi Bukhari
    A landscape photographer based in Sialkot, Pakistan. A network engineer by profession and a traveller, poet, photographer and writer by passion.

    NO COMMENTS

    Leave a Reply